پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

ترک صدر کا بیان، مغرب بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ‎

datetime 2  اگست‬‮  2016 |

ستنبول( آن لائن ) ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مغربی ممالک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب دہشتگردی اور اقتدار پر قبضے کی کوششیں کرنےا والوں کی حمایت کرتا ہے۔15 جولائی کو ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے انقرہ کا مغرب کے حوالے سے یہ سخت ترین بیان ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدارتی محل سے اپنے ٹی وی خطاب میں صدر اردگان نے کہا کہ بدقسمتی سے جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں وہ دہشتگردوں اور بغاوت کی سازش کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مسلح افواج کی تنظیم نو کے حوالے سے اقدامات نہ کیے گئے تو فتح اللہ گولن سے وابستہ تنظیم فوج پر اپنا قبضہ مکمل کرلے گی۔اردگان نے کہا کہ اقتدار پر قبضے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔انہوں نے استفسار کیا کہ امریکا ترکی کاکیسا اسٹریٹجک پارٹنر ہے جب وہ درخواست کے باوجود فتح اللہ گولن کو ہمارے حوالے نہیں کرسکتا۔اردگان نے کہا کہ یورپی یونین نے مہاجرین کے حوالے سے ہونے والے معاہدے میں کیے جانے والے وعدے پورے نہیں کیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش کی پیشگی اطلاع نہ ملنے کی وجہ یہ تھی کہ خفیہ ایجنسی پر گولن کے حامیوں کا قبضہ تھا، ہم اپنی انٹیلی جنس کی بھی تنظیم نو کرینگے۔ترک صدر نے کہا کہ جرمنی میں عدالت نے بہت ہی زیادہ پھرتی دکھائی اور مجھے وہاں موجود اپنے حامیوں سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب سے روک دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ترکی نے جرمنی کو 4 ہزار سے زائد مطلوب شدت پسندوں کی فہرست بھی دی تھی لیکن اس پر اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا لیکن ان کی آئینی عدالت نے میرے خطاب پر پابندی کا فیصلہ دو گھنٹے میں جاری کردیا۔انہوں نے استفسار کیا کہ مغرب جمہوریت کی طرف ہے یا دہشتگردوں کی طرفداری کرتا ہے کیوں کہ ماضی میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے رہنماؤں کو جرمنی میں خطاب کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بغاوت کی کوشش کا اسکرپٹ ترکی سے باہر لکھا گیا جس پر ترکی میں موجود عناصر نے عمل کیا۔واضح رہے کہ ترکی فوجی بغاوت کی کوشش کے پیچھے امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کو ٹھہراتا ہے اور بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے اب تک مختلف اداروں میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…