لاہور( این این آئی)ماڈل گرل قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفیاں سامنے آنے سے شہرت حاصل کرنے والے مفتی عبد القوی نے کہا ہے کہ قندیل بلو چ کی معذرت کے بعد میں نے انہیں معاف کر دیا تھا ، ایک انسان کے قتل ہونے کے حوالے سے تو یہ قابل مذمت ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ انکے بھائی نے غیرت کے نام پر ان کا قتل کیا ہے اور غیرت کے بھی تقاضے ہوتے ہیں،میں ان خواتین اور باقی لوگوں کو بھی پیغام دوں گا کہ وہ کم از کم کسی اہل ایمان ،اہل دین ،اہل علم او راہل فتویٰ پر الزام لگانے سے پہلے محترمہ کے انجام کو اپنے ذہن میں رکھیں ۔ ماڈل گرل قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اپنے رد عمل میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ محترمہ جب میرے پاس آئی تھیں تو میں نے سب سے پہلے یہی کہی تھی آپ کے دل میں کلمہ طیبہ ہے اور اس کلمہ کے نور کی روشنی میں اپنی زندگی اور اپنے معاملات کو درست کریں اور رزق رب العالمین نے دینا ہے ، میں نے ان کیلئے دعا بھی کی تھی ۔ اس کے بعد انہوں نے سیلفیاں وغیرہ بنائیں اور جب میں رات کو اپنے ہوٹل واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ محترمہ نے کہا کہ مفتی عبد القوی نے جھوٹ بولا ۔جب میں ملتان پہنچا تو ا نکے پانچ پیغامات آئے اور میں نے وہ تمام پیغامات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دئیے اور انہوں نے کہا کہ یہ سب میری غلطی ہے اور میں اس پر پشیمان ہوں ۔ بڑے حضرات معاف کر دیتے ہیں اور آپ مجھے معاف کر دیں ۔ میں نے ملتان میں پریس کانفرنس کی اور وہاں میں نے دو باتیں کی تھیں کہ میں اللہ کیلئے ان کو معاف کر دیا ہے البتہ میرے جو پیرو کار ہیں اور دنیا بھر سے دوستوں کے جو فون آئے اورانکے دل دکھے ہیں اس لئے میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ،البتہ میں نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ قندیل بلوچ کی طرف سے ان سے خطرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ میں پر امن آدمی ہوں ،میڈیا گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ مثبت بات کی ہے بلکہ اگر کسی عالم کی طرف سے منفی بات بھی سامنے آئی ہو تو میں نے ہمیشہ مثبت بات کی ہے ، امن کے حوالے سے ہمارے خاندان نے بڑا کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر بہت افسوس ہے کہ کیونکہ اللہ کا قرآن کہتا ہے کہ ایک جان کا قتل انسانیت کا قتل ہے ۔ انہوں نے قندیل بلوچ کے قتل کی مذمت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ بظاہر انکے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے اورپاکستان کے قانون اور شریعت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک انسان کے قتل ہونے کے حوالے سے تو یہ قابل مذمت ہے لیکن نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ رب العالمین کہتے ہیں کہ سب سے غیرتمند میں اللہ ہوں ، غیرت کے بھی تقاضے ہیں اور یہ ان کا خانگی معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں باقی خواتین اور ان لوگوں کو بھی پیغام دوں گاکہ وہ آئندہ کے لئے کم از کم کسی اہل ایمان ،اہل دین ،اہل علم اور اہل فتویٰ پر الزام لگائیں تو محترمہ کے انجام کو ذہن میں رکھیں اور آئندہ ایسی گفتگو نہ کریں جس سے اہل دین ،اہل علم یا اہل فتویٰ کی توہین ہو ۔
اہل علم او راہل فتویٰ پر الزام لگانے سے پہلے محترمہ کے انجام کو اپنے ذہن میں رکھیں ،مفتی عبدالقوی بہت کچھ بول پڑے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
دنیا کے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کی فہرست جاری، سنگاپور کا پہلا نمبر، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
راولپنڈی،خاتون سے زیادتی کرنے اور نومولود بچی کو اغوا کرنے والا ہوٹل منیجر گرفتار، بچی بازیاب
-
پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید کیلئے نئی شرائط عائد
-
راولپنڈی سے بھارتی شہری گرفتار، پاکستانی کرنسی بھی برآمد
-
سونے کے بعد چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں بڑی کمی
-
چینی کمپنی ’’ہان گینگ ٹریڈ کمپنی‘‘ کاپاکستان میں اپنا پلانٹ بند کرنے کا اعلان
-
پہلی سے پانچویں جماعت تک نیا تعلیمی نصاب نافذ کرنے کا فیصلہ
-
جمائما خان کو نیا پیار مل گیا؟ برطانوی میڈیا کا منگنی کادعویٰ



















































