جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

اہل علم او راہل فتویٰ پر الزام لگانے سے پہلے محترمہ کے انجام کو اپنے ذہن میں رکھیں ،مفتی عبدالقوی بہت کچھ بول پڑے

datetime 16  جولائی  2016 |

لاہور( این این آئی)ماڈل گرل قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفیاں سامنے آنے سے شہرت حاصل کرنے والے مفتی عبد القوی نے کہا ہے کہ قندیل بلو چ کی معذرت کے بعد میں نے انہیں معاف کر دیا تھا ، ایک انسان کے قتل ہونے کے حوالے سے تو یہ قابل مذمت ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ انکے بھائی نے غیرت کے نام پر ان کا قتل کیا ہے اور غیرت کے بھی تقاضے ہوتے ہیں،میں ان خواتین اور باقی لوگوں کو بھی پیغام دوں گا کہ وہ کم از کم کسی اہل ایمان ،اہل دین ،اہل علم او راہل فتویٰ پر الزام لگانے سے پہلے محترمہ کے انجام کو اپنے ذہن میں رکھیں ۔ ماڈل گرل قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اپنے رد عمل میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ محترمہ جب میرے پاس آئی تھیں تو میں نے سب سے پہلے یہی کہی تھی آپ کے دل میں کلمہ طیبہ ہے اور اس کلمہ کے نور کی روشنی میں اپنی زندگی اور اپنے معاملات کو درست کریں اور رزق رب العالمین نے دینا ہے ، میں نے ان کیلئے دعا بھی کی تھی ۔ اس کے بعد انہوں نے سیلفیاں وغیرہ بنائیں اور جب میں رات کو اپنے ہوٹل واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ محترمہ نے کہا کہ مفتی عبد القوی نے جھوٹ بولا ۔جب میں ملتان پہنچا تو ا نکے پانچ پیغامات آئے اور میں نے وہ تمام پیغامات الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دئیے اور انہوں نے کہا کہ یہ سب میری غلطی ہے اور میں اس پر پشیمان ہوں ۔ بڑے حضرات معاف کر دیتے ہیں اور آپ مجھے معاف کر دیں ۔ میں نے ملتان میں پریس کانفرنس کی اور وہاں میں نے دو باتیں کی تھیں کہ میں اللہ کیلئے ان کو معاف کر دیا ہے البتہ میرے جو پیرو کار ہیں اور دنیا بھر سے دوستوں کے جو فون آئے اورانکے دل دکھے ہیں اس لئے میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ،البتہ میں نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ قندیل بلوچ کی طرف سے ان سے خطرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبد القوی نے کہا کہ میں پر امن آدمی ہوں ،میڈیا گواہ ہے کہ میں نے ہمیشہ مثبت بات کی ہے بلکہ اگر کسی عالم کی طرف سے منفی بات بھی سامنے آئی ہو تو میں نے ہمیشہ مثبت بات کی ہے ، امن کے حوالے سے ہمارے خاندان نے بڑا کردار ادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر بہت افسوس ہے کہ کیونکہ اللہ کا قرآن کہتا ہے کہ ایک جان کا قتل انسانیت کا قتل ہے ۔ انہوں نے قندیل بلوچ کے قتل کی مذمت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ بظاہر انکے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے اورپاکستان کے قانون اور شریعت کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک انسان کے قتل ہونے کے حوالے سے تو یہ قابل مذمت ہے لیکن نبی کریم ؐ کا فرمان ہے کہ رب العالمین کہتے ہیں کہ سب سے غیرتمند میں اللہ ہوں ، غیرت کے بھی تقاضے ہیں اور یہ ان کا خانگی معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں باقی خواتین اور ان لوگوں کو بھی پیغام دوں گاکہ وہ آئندہ کے لئے کم از کم کسی اہل ایمان ،اہل دین ،اہل علم اور اہل فتویٰ پر الزام لگائیں تو محترمہ کے انجام کو ذہن میں رکھیں اور آئندہ ایسی گفتگو نہ کریں جس سے اہل دین ،اہل علم یا اہل فتویٰ کی توہین ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…