منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف کو دعوت کے پوسٹر کون لگوارہاہے،خورشید شاہ کھل کرسامنے آگئے، ایسا نام لے لیا کہ وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 15  جولائی  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے پوسٹر لگانے والوں کے خلاف کارروائی وزرات داخلہ کی ذمہ داری تھی،لگتا ہے یہ ہے کہ وزرات داخلہ ہی اس میں ملوث ہے،وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کا میندیٹ چھیننے کی کوشش کر رہی ہے،اگر کسی بھی امیدوار کو گزند پہنچاتو مسلم لیگ (ن) کی حکومت ذمہ دار ہوگی،اسلام آباد پولیس کی طرف سے فیصل راٹھور پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہ کرنا آئین پاکستان اور پوری دنیا کے قوانین کے خلاف ہے،آئی جی کے عہدے پر موجود شخص کو بالکل زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دباؤ میں آکر ایف آئی آر درج نہ کرے،جانب دار آئی جی کو اب اپنے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں،کشمیریوں نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا،آج سرحد کے دونوں اطراف ان پر ظلم ہورہاہے ،آرمی چیف کے پوسٹر لگانے والوں کے خلاف کارروائی وزرات داخلہ کی ذمہ داری تھی،لگتا ہے یہ ہے کہ وزرات داخلہ ہی اس میں ملوث ہے۔جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن معاملے پر وفاقی حکومت کی جانب داری کو آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پی پی کے 40سے زائد ورکروں کو گرفتار کیا گیا ہے،جبکہ 40روپوش ہیں اور ان کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا جارہاہے پیپلز پارٹی جمہوری پارٹی ہے اور ہمیشہ دہشتگردی کی مخالفت کی ہے،آج وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کا مینڈینٹ چھیننے کی کوشش کر رہی ہے،پی پی کے امیدوار اور آزاد ریاست کے وزیرفیصل راٹھور پر فائرنگ کی گئی جس کی ایف آئی آر بھی اسلام آبادپولیس کی جانب سے درج نہیں کی گئی،آئی جی اسلام آباد سے جب اس معاملے پر بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جارہی ہے ان پر ایف آئی آر درج نہیں ہوسکتی،آئی جی کے عہدے پر موجود شخص سے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں کسی وفاقی وزیر کو نامزد نہیں کیا بلکہ تمام پانچ نامزد ملزمان میں کوئی بھی وفاقی وزیر نہیں ہے،ہمارا قتل کرکے ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جاتی،ماڈل ٹاؤن میں دہشتگردی کے بعد بھی ایف آئی آر میں سے اعلیٰ حکومتی شخصیات کے نام نکلوا دیئے گئے تھے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو پر وزیراعظم ہوتے ہوئے ایف آئی آر درج ہوئی تھی،انہوں نے تو کسی پر دباؤ نہیں ڈالا تھا،آئی جی کے رویے کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بینرز معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے،اس شخص کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،جس نے آرمی چیف کے بینرز لگا کر ان کو حکومت کے خلاف اکسایا اس کی ذمہ دار وزرات داخلہ چار دن تک وہ بینر اسلام آباد کی سڑکوں پر ہمارا منہ چڑاتے رہے اور وزیر داخلہ آستینیں چڑھا کر ایک لفظ بھی بول نہیں پائے،پوسٹر لگانے کے معاملے میں وزرات داخلہ ملوث ہے،مقبوضہ کشمیر مسئلہ پر مشترکہ اجلاس اچھا قدم ہے،کشمیر پر موجودہ حکومت کا رویہ غیر سنجیدہ ہے،مشترکہ اجلاس میں بھی اس پر صرف تقریریں ہوں گی،ہمیں اب سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف جانا ہوگا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…