منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

ڈیڑھ لاکھ افغان مہاجرین ،24گھنٹے ،بڑا حکم جاری،افغان مہاجرین کا حیرت انگیز ردعمل

datetime 15  جولائی  2016 |

چارسدہ (آئی این پی )شبقدر میں مقیم رہائش پذیر ڈیڑھ لاکھ افغان مہاجرین نے 24گھنٹے کے اندر اندر علاقہ خالی کرنے اور طور خم بارڈر پہنچنے کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا ۔ صرف دو افغان مہاجرین علاقہ سے چلے گئے ۔اپریشن ضرب غضب کے نتیجے میں افغانستان نقل مکانی کرنے والے 1لاکھ سے زائد پاکستانیوں پر بھی افغان سرزمین تنگ کر دی گئی ۔پاکستانی مہاجرین کی افغانستان سے نقل مکانی شروع ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق شبقدر کے افغان مہاجر کیمپ میں موجود 84ہزار افغان مہاجرین سمیت شبقدر کے دیگر علاقوں میں رہائش پذیر غیر قانونی افغان مہاجرین کو گزشتہ روز سیکیورٹی اداروں نے 24گھنٹے کے اندر اندر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا تھاا ور جمعہ کے صبح 8بجے تک ڈیڈ لائن دیکران کو طور خم بارڈر پہنچنے کی ہدایت کی گئی مگر افغان مہاجرین نے سیکیورٹی اداروں اور حکومت کے احکامات کھوہ کھاتے میں ڈال کر کوئی سنجیدگی نہ دکھائی ااور تھانہ سرو کے حدو شندو غنڈو سے صرف دو افغان مہاجر بھائیوں نے حکومتی احکامات پر عمل در آمد کیا اور علاقہ چھوڑ کر طور خم بارڈر چلے گئے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کی تیسری نسل چارسدہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں جوان ہوئی اور پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ بیشتر مہاجرین نے پاکستان میں ذاتی گھر اور جائیدادیں بھی بنالی ہے جبکہ ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کا پاکستان میں تجارت کا وسیع نیٹ ورک بھی موجود ہے جس کی وجہ سے افغان مہاجرین کو افغانستان واپس جانے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ دوسری طرف افغانستان میں 1979کے ثور انقلاب کے نتیجے میں پاکستان منتقل ہو نے والے لاکھوں افغان مہاجرین کی تین نسلیں پاک سرزمین پر جوان ہو ئے اور بیشتر نے پاکستانی خاندانوں میں شادیاں رچا لی ہے جبکہ افغان مہاجرین کی لڑکیاں پاکستانی خاندانوں میں بیاہی ہو ئی ہے ۔ ایسے حالات میں تین نسلوں کے لوگوں کو اچانک افغانستان منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے مگر پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے حکومت کو یہ اقدام اٹھانا پڑا ۔ دوسری طرف اپریشن ضرب غضب کے نتیجے میں جنوبی وزیر ستان سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی افغانستان منتقل ہو چکے ہیں اور اب افغان حکومت نے پاکستانی مہاجرین پر افغان سر زمین تنگ کر دی ہے جس کی وجہ سے افغانستان سے پاکستانی مہاجرین کے واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جس میں سب سے خطرناک بات یہ سامنے آرہی ہے کہ افغان سر زمین پر تین سال قیام کے دوران بھارت کی راء اور افغان ایجنسیوں نے کتنے پاکستانیوں کو گمراہی کے راستے پر گامزن کیا ہو گااور اس حوالے سے پاکستانی حکام سوچ و بچار کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…