لاہور(این این آئی )قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہاکہ ٹی او آر ز کے معاملے پر اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے ڈیڈ لاک ہے ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹ کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ مسائل شاہراہوں اور کسی اور اداروں کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہوں ، ضد بازی کسی طرح بھی حکومت کے حق میں نہیں اور اسے اس کا بہت نقصان ہوگا،ا لیکشن کمیشن کی تشکیل میں فیورٹ ازم نہیں ہونے دیں گے ،میری کوشش ہوگی کہ الیکشن کمیشن میں غیر جانبدار لوگ لانے میں کامیاب ہوجائیں ،مرکزی حکومت آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کیخلاف پروپیگنڈا کررہی ہے ،پیپلز پارٹی تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے نوید چوہدری اور دیگر کے ہمراہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے گھر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم تو چاہتے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رہے اور تمام مسائل پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حل کئے جائیں ناکہ اپنے مسائل کے حل کیلئے عدالتوں میں جایا جائے ۔حکومت اپنی ضد چھوڑ دے ورنہ اس کا ہی نقصان ہوگا ۔ ہم نہیں چاہتے کہ مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پرآنے کی نوبت آئے یا کسی اور اداروں میں جا کر مسائل حل ہوں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ لیکشن کمیشن کی تشکیل میں فیورٹ ازم نہیں ہونے دیں گے اور میری کوشش ہوگی الیکشن کمیشن میں غیر جانبدار لوگ لانے میں کامیاب ہوجائیں ۔اگرایسا ہوگیا تو پھر کوئی بھی نئے الیکشن کمیشن پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ اگر معاملہ حل نہ ہوا تو پھر پارلیمنٹ کی حکومت اور اپوزیشن کی چھ ، چھ اراکین پر مشتمل کمیٹی کے پاس معاملہ جائے گا او روہاں اس کا حل ہوگا۔انہوں نے کشمیر کمیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر کمیٹی کے اجلا س ہونے چاہئیں اور مولانا فضل الرحمن کو چاہیے کہ کشمیر کمیٹی کو فعال کرنے میں محنت کریں ۔جب مولانا صاحب جوان تھے تو کمیٹی کو اچھے انداز میں چلا رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں ہونیو الے انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پیپلز پارٹی تشدد پر یقین نہیں رکھتی کیونکہ وہاں ہماری پوزیشن سب کے سامنے ہے ۔آئی جی نے ایسی میٹھی باتیں کیں کہ مجھے اپنے چنگل میں ہی پھنسا لیا ۔حکومت آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہے ۔ ہم وہاں جیت رہے ہیں ہم وہاں کیوں لڑیں گے ۔ وہاں جان بوجھ کرایسے حالات پیدا کئے گئے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں ہونے والے انتخابات میں ہم نے فوج کو بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج تعینات ہونی چاہیے ۔انہوں نے حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر مشترکہ سیشن بلانے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو پہلے اقدام کرنا چاہیے تھا۔ حکومت کو اس سے پہلے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرناچاہیے تھا اور بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کو بلا کر حالات سے آگاہی لینی چاہیے تھی۔ پیپلز پارٹی اس معاملے میں قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا چکی ہے ۔
کیا ہونے والا ہے؟حکومت کا اب بہت نقصان ہوگا،خورشید شاہ نے انتبا ہ کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)
-
ایرانی ریال کی پاکستان میں تازہ ترین قیمت
-
سکولوں کے اوقات میں 1 گھنٹے کی کمی کا اعلان
-
بیرون ملک جانے والوں کے لیے بڑی پابندی، سفر سے پہلے یہ کام لازمی ہوگیا
-
لاہور میں فلیٹ سے بدبو آنے پر پڑوسیوں کی پولیس کو کال، ٹک ٹاکر اور بیوٹیشن ارشمہ کی لاش برآمد
-
وہ عام پھل جسے کھانا عادت بناکر بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچنا ممکن ہے
-
عوام پر مزید بوجھ، ملک بھر میں بجلی نیٹ ورک استعمال کرنے کی یکساں قیمت لاگو
-
دبئی جانے والے پاکستانیوں سمیت غیرملکی کارکن ہوشیار، نیا قانون سامنے آگیا
-
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
-
وہ اینڈرائیڈ فونز جن میں 9 ستمبر سے واٹس ایپ کو استعمال نہیں کیا جاسکے گا
-
نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اہم خبر، حکومت نے بڑی سہولت متعارف کرا دی
-
گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
سرفراز احمد کو کوچنگ سے کیوں ہٹایا گیا؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگئے
-
محکمہ موسمیات نے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی



















































