منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستان کا یوم آزادی‘‘ پاکستان میں ہی یوم سیاہ منانے کی دھمکی کس نے اور کیوں دی؟خبر نے تہلکہ مچا دیا

datetime 15  جولائی  2016 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس نے پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم نہ کرنے پر 14 اگست کو یوم سیاہ منانے کی دھمکی دے دی۔ پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس میں آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے صدر حاجی اقبال آفریدی نے کہا کہ اگر حکومت 14 اگست تک فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے میں ناکام رہی تو فاٹا میں یوم آزادی کے دن یوم سیاہ منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام پہلے ہی حکومت سے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی درخواست کرچکے ہیں لیکن کچھ ملک دشمن عناصر اس حوالے سے رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عوام فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ برطانوی حکمرانوں نے فاٹا میں ایف سی آر قانون نافذ کیا تھا، لیکن اب فاٹا پاکستان کا حصہ بن چکا ہے، فاٹا میں پاکستانی قوانین کا نفاذ ہونا چاہئے۔ اس موقع پر فاٹا کے مختلف جماعتوں کے نمائندگان جماعت اسلامی کے زار نور ا?فریدی، نیشنل پارٹی کے اعجاز آفریدی، اے این پی کے نثار خان اور قومی وطن پارٹی کے مصطفیٰ خان بھی موجود تھے۔
آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس نے ایف سی آر کو ختم کرکے فاٹا میں نئی اصلاحات لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے صدر حاجی اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبے کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن درحقیقت فاٹا میں ایف سی آر قوانین کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات کیے جارہے ہیں، فاٹا کے عوام مجبور ہیں کیونکہ اس قانون کے تحت وہ بدعنوان سیاستدانوں اور حکام کے خلاف ا?واز اٹھانے کی جرات نہیں کرسکتے۔اس موقع پر زار نور آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک کروڑ سے زائد فاٹا کے عوام پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ہم ان کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے ہی فاٹا کے عوام کی زندگی میں تبدیلی آسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مہمند ایجنسی میں ملٹری آپریشن کے آغاز کے بارے میں سنا ہے لیکن ہماری تجویز ہے کہ ٓپریشن کے دوران صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے اور معصوم عوام کی ہلاکت اور ان کے مکانات کو تباہی سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔
اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام ملک میں استحکام اور سلامتی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، وزیر اعظم کو چاہیئے کہ وہ فاٹا میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے کم از کم 500 اب روپے پیکیج کا اعلان کرنا کریں۔
آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے 14 اگست تک مطالبات پورے نہ کئے گئے تو وہ نہ صرف یوم ا?زادی کو ’یوم سیاہ‘ منائیں گے بلکہ فاٹا میں احتجاجی مظاہرے کا سلسلہ شروع کردیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ مہینے فاٹا اصلاحات کمیٹی نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے سیاسی، اتنظامی، عدالتی اور سیکیورٹی اصلاحات سمیت تعمیرنو اور بحالی پروگرام کی سفارشات پیش کیں تھیں۔مجوزہ سفارشات کے ڈرافٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کو 5 سال کے لیے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی تھیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…