منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

انسانیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ۔۔۔ پوری دنیا کے سائنسدان سر جوڑ کر بیٹھ گئے

datetime 15  جولائی  2016 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) سائنسدانوں نے موسمی تبدیلیوں کی شدت کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے اور دنیا بھر کے لیے وارننگ جاری کر دی ہے کہ اگر انسان زندہ رہنا چاہتے ہیں تو موسمیاتی تغیر کا سدباب کر لیں ورنہ سالانہ اڑھائی لاکھ لوگ موسمی شدت کے باعث ہلاک ہونا شروع ہو جائیں گے اور عالمی معیشت کو سالانہ کھربوں ڈالر کا نقصان ہو گا اور اس سنگین صورتحال کا خطرہ زیادہ دور نہیں بلکہ ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’’گزشتہ 50سال میں ایندھن کے بے بہا استعمال سے موسمی تبدیلی کی شرح میں انتہائی تیزی اور شدت آ چکی ہے جس کی وجہ سے صاف ہوا، پینے کے قابل پانی، خوراک و محفوظ رہائش گاہیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب انسان ان تمام چیزوں سے محروم ہو جائے گا اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہونے لگیں گی۔‘‘
سائنسدانوں کا مزید کہنا تھا کہ ’’مستقبل قریب میں موسمی شدت اور آلودگی کے باعث ملیریا، ڈائیریا، ناقص غذا اور اس طرح کے دیگر مسائل اس قدر عام ہو جائیں گے کہ ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ شدید موسمی تغیر کے باعث دنیا کو سالانہ ڈیڑھ ارب پاؤنڈ سے 3ارب پاؤنڈ سالانہ معاشی نقصان اٹھانا پڑے گاجس سے دنیا کے پسماندہ اور غریب ممالک کی حالت انتہائی ابتر ہو جائے گی۔ جیسے جیسے گلیشیئرپگھل رہے ہیں اور سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے ویسے ہی بیماریاں اور خوراک کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو 2030ء سے 2050ء کے درمیان سالانہ اڑھائی لاکھ افراد کے لقمہ اجل بن جانے کا خدشہ قوی ہوتا چلا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق روئے ارض پر تیزی سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں پر ریسرچ اور اس کے منفی اثرات کی روک تھام کیلئے دنیا بھر کے سائنسدان سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ موسمیاتی عالمی ذرائع کے مطابق اگر دلجمعی سے اس موضوع پر کام کیا جاتا رہا تو سائنسدان جلد کوئی بہتر حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…