اسلام آباد (این این آئی)فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ ملاؤں اور قدامت پسند عناصر نے سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر ان کے والد کو ہمیشہ پریشان کیا۔ عبدالستار ایدھی کے بیٹے فیصل ایدھی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم کو عطیات کی کمی کا خدشہ ہے کیونکہ ہر سال ایدھی فاؤنڈیشن کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے۔خاص طور پر رمضان کے مہینے میں ایک منصوبے کے تحت یہ افواہ پھیلائی جاتی رہی ہے کہ ایدھی صاحب انتقال کر گئے ہیں چونکہ بہت سے لوگ ایدھی صاحب کی شخصیت اور ان کے کام کی وجہ سے چندہ دیتے ہیں، اس لیے کچھ عناصر منفی پروپیگنڈے اور افواہوں کے ذریعے لوگوں کو چندہ دینے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ یہ افواہیں کون پھیلاتا ہے فیصل ایدھی نے کہا کہ یہ کام وہ لوگ کرتے رہے ہیں جو غیر ترقی پسند، رجعت پسند اور انتہا پسند سوچ رکھتے ہیں ٗ ملاؤں نے ہمیشہ سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر ایدھی صاحب کو پریشان کیا ہے۔‘ملاؤں نے ہمیشہ جمعے کی نمازوں میں ان کو کبھی قادیانی بنایا ٗکبھی انھیں کافر بنایا تو کبھی آغا خانی بنایااور لوگوں سے درخواست کی کہ انھیں چندہ نہ دیں۔فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ حالانکہ مدرسوں اور مسجدوں کے مقابلے میں انھیں بہت کم چندہ ملتا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں یہ لوگ ایدھی صاحب کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہتے تھے ٗاب تو میں دعا کرتا ہوں اور ان لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کے ایدھی صاحب کو بخش دیں اب وہ مر چکے ہیں اور ان کے بارے میں فتوے دینا بند کر دیں ٗاس کا کوئی فائدہ نہیں۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا کچھ لوگوں کا یہ اعتراض درست ہے کہ ایدھی صاحب کی نماز جنازہ کو حکومت نے ہائی جیک کر لیا تھا تو فیصل ایدھی نے اس سے اتفاق نہیں کیاانہوں نے کہاکہ پچھلے تین دنوں میں سینکڑوں لوگوں نے ان سے ملاقات کی اور انھیں اپنے خیالات سے آگاہ کیا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ انھیں بہت پریشانی ہوئی ہے اور انھیں تین تین چار چار کلومیٹر دور گاڑیاں پارک کر کے دو دو گھنٹے پیدل چلنا پڑا ہے، بہت دشواری ہوئی۔ لیکن وہ ایدھی صاحب سے محبت کرتے تھے اور انھیں کندھا دینا چاہتے تھے۔ لیکن سٹیٹ کی بھی ایک ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور بھلے ہی ہم اس سے متفق نہ ہوں، بھلے ہی اس میں خامیاں ہوں، لیکن جو حکومت نے کردار ادا کیا، میں سمجھتا ہوں وہ بہتر تھاجب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مستقبل میں ایدھی فاونڈیشن کا نظم و نسق مختلف انداز میں چلانا پسند کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ایدھی صاحب کے دور میں بہت سے ایسے کام ہوتے رہے ہیں جن سے وہ متفق نہیں تھے جیسا کہ ان کے سینئر ورکر تھے۔ میں اگر ان سے متفق نہیں بھی تھا تو میں انھیں نکالتا نہیں تھا ٗکبھی میں نے ایدھی صاحب کو یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ فیصل ان کے پرانے ملازموں کو نکال کر اپنے لوگ لا رہا ہے۔ یہ سینئر لوگ میرے ساتھ کام کرتے ہیں اور بھلے ہی میرا ان کے ساتھ یا ان کے کام کے ساتھ اختلاف ہو، میں نے ان کو نہیں نکالا اور آگے بھی نہیں نکالوں گا۔ وہ میرے لیے اتنے ہی معزز ہیں جتنا کہ ایدھی صاحب کیلئے معزز تھے۔اس حوالے سے فیصل ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کی بنیادی پالیسیاں وہی رہیں گی۔ایدھی صاحب ایک سوشلست ذہن کے انسان تھے اور مجھے بھی انھوں نے سوشلسٹ تربیت دی اور ہماری اس بارے میں بہت بات ہوتی تھی۔ انھی نظریوں پر ہم آگے بھی اس ادارے کو چلائیں گے ٗچاہے ہمیں فٹ پاتھ پر ہی کیوں نہ بیٹھ کر اسے چلانا پڑے۔فیصل ایدھی نے کہاکہ اللہ مجھے ہمت اور طاقت دے کہ میں اس ادارے کو صیح طریقے سے چلا سکوں اور اسی طرح چلا سکوں جیسے ایدھی صاحب چلاتے تھے۔
ملاؤں اور سرمایہ داروں نے ایدھی کو پریشان کیا ٗ تنظیم کو عطیہ کی کمی کا خدشہ ہے ٗفیصل ایدھی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)
-
ایرانی ریال کی پاکستان میں تازہ ترین قیمت
-
بیرون ملک جانے والوں کے لیے بڑی پابندی، سفر سے پہلے یہ کام لازمی ہوگیا
-
لاہور میں فلیٹ سے بدبو آنے پر پڑوسیوں کی پولیس کو کال، ٹک ٹاکر اور بیوٹیشن ارشمہ کی لاش برآمد
-
وہ عام پھل جسے کھانا عادت بناکر بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچنا ممکن ہے
-
دبئی جانے والے پاکستانیوں سمیت غیرملکی کارکن ہوشیار، نیا قانون سامنے آگیا
-
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
-
گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
عوام پر مزید بوجھ، ملک بھر میں بجلی نیٹ ورک استعمال کرنے کی یکساں قیمت لاگو
-
سکولوں کے اوقات میں 1 گھنٹے کی کمی کا اعلان
-
نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے اہم خبر، حکومت نے بڑی سہولت متعارف کرا دی
-
سرفراز احمد کو کوچنگ سے کیوں ہٹایا گیا؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگئے
-
محکمہ موسمیات نے گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی
-
بڑی کے ہاتھوں چھوٹی بہن کا قتل، ملزمہ کو ورثا نے معاف کردیا



















































