منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب میں دھماکوں کے بعد پاکستانیوں کی شامت آگئی

datetime 9  جولائی  2016 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہاہے کہ مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خودکش دھماکہ کرنے والا شخص سعودی شہری تھا جو منشیات کا عادی تھا۔جبکہ پانچ جولائی کو ہونے والے تین خودکش حملوں کی تحقیقات میں 19 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 12 پاکستانی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں سعودی وزارت داخلہ نے بتایا کہ مسجد نبوی کے قریب دھماکہ کرنے والا 26 سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجیدی تھا جو منشیات کا عادی تھا۔وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ مدینہ میں کیے گئے خود کش دھماکے میں نائٹروگلیسرین کے نمونے ملے ہیں۔واضح رہے کہ پانچ جولائی کو سعودی عرب کے تین شہروں میں خودکش حملے کیے گئے تھے۔ سب سے پہلا جدہ میں امریکی قونصلیٹ کے باہر، دوسرا شیعہ اکثریتی علاقے قطیف اور تیسرا مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب ہوا تھا۔سعودی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ قطیف میں حملہ کرنے والے 23 سالہ عبدالرحمان العمر، 20 سالہ ابراہیم العمر اور 20 سالہ عبدالکریم الحسنی تھی۔یاد رہے کہ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والا شخص ایک پاکستانی تھا تاہم پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے فی الحال اس امر کی تصدیق سے انکار کیا ہے کہ مذکورہ شخص پاکستانی شہری ہے۔یہ دھماکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سحری کے وقت ہوا تھا اور اس میں خودکش حملہ آور ہلاک اور اسے روکنے کی کوشش کرنے والے دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔منگل کو سعودی وزارتِ داخلہ کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤئنٹ سے جاری کیے جانے والے پیغامات میں کہا گیا تھا کہ حملہ آور کا نام عبداللہ گلزار خان ہے جو ایک پاکستانی شہری ہے اور 12 برس قبل ڈرائیور کی نوکری کرنے کے لیے سعودی عرب آیا تھا۔پیغام کے مطابق 15 ستمبر 1981 کو پیدا ہونے والا عبداللہ گلزار خان سعودی عرب میں اپنی اہلیہ اور ان کے والدین کے ہمراہ مقیم تھا۔سعودی وزارتِ داخلہ نے ان پیغامات کے ساتھ ہی عبداللہ گلزار خان کی تصویر بھی جاری کی تھی۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں 12 پاکستانیوں اور 7 سعودیوں سمیت 19 دوسرے مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ مدینہ، قطیف اور جدہ کے حملوں میں ملوث ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…