جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ڈھاکہ ریسٹورنٹ پر حملہ آور قرآن پڑھ کر سنانے والوں کے ساتھ کیا کرتے رہے،بنگالی جریدے کے انکشافات

datetime 2  جولائی  2016 |

ڈھاکہ(آن لائن) بنگلہ دیش کے مشہور ریسٹورنٹ میں جمعہ کی رات حملہ کرنے والے شدت پسندوں نے یرغمال افراد سے قرآن کی آیات پڑھنے کا کہا اور جو آیات پڑھنے میں ناکام رہا اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔سفارتی علاقے کی ہولی آرٹیسَن بیکری میں 10 گھنٹے سے زائد وقت تک یرغمال رہنے والے حسنات کریم کے والد رضا الکریم نے ’دی ڈیلی اسٹار‘ کو بتایا کہ یرغمال افراد میں جنہوں نے قرآن کی ایک یا حسنات کریم اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ ڈھاکہ کے گلشن روڈ پر واقع اسپانوی ریسٹورنٹ میں سالگرہ کی تقریب میں گئے تھے، جہاں شدت پسندوں نے حملہ کرکے غیر ملکیوں سمیت تقریباً 20 افراد کو یرغمال بنا لیا۔حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا اور ہلاک کیے جانے والے غیر ملکیوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔بنگلہ دیشی آرمی کے ترجمان نے یرغمال بنائے گئے 20 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے بیشتر کو تیز دھار آلے کی مدد سے قتل کیا گیا۔حسنات کریم کی فیملی کو بنگلہ دیشی فوج اور پیرا ملٹری بارڈر گارڈ کے مشترکہ آپریشن میں ریسکیو کیا گیا، جبکہ پولیس اور ایلیٹ فورس کی ’ریپڈ ایکشن بٹالین‘ نے بھاری ہتھیاروں سے لیس حملہ آوروں کو ہفتہ کے روز پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔رضا الکریم نے اپنے بیٹے حسنات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد نے بنگلہ دیشی شہریوں کے ساتھ بْرا برتاؤ نہیں کیا، بلکہ انہیں رات کا کھانا بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے یرغمال بنائے گئے ہر شخص سے قرآن کی آیات تلاوت کرنے کا کہہ کر ان کا مذہب معلوم کیا، جو قرآن کی ایک یا دو آیات تلاوت کرسکے انہیں چھوڑ دیا گیا، جبکہ دیگر پر تشدد کیا گیا۔حسنات کریم کے مطابق مسلح افراد نے غیر ملکی شہریوں کو تقریباً رات 11 بجے کھانے کے دوران ہلاک کیا۔حسنات کریم کی والدہ حسنا آرا نے کہا کہ ان کے بیٹے کی فیملی کو مزید تفتیش کے لیے تفتیشی برانچ آفس لے جایا گیا، تاہم ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انہیں بحفاظت گھر پہنچا دیا جائے گا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…