منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

خطے کے وسیع تر مفاد میں یہ کام کرنا پڑے گا ، پاکستان کا افغانستان کو دو ٹوک جواب

datetime 30  جون‬‮  2016 |

پشاور (آئی این پی )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے خطے کے وسیع تر مفادمیں پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونا دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے، اصل مسئلہ مہاجرین نہیں بلکہ غیر رجسٹرڈغیر ملکی ہیں ،اس کے تدارک کیلئے سنجیدہ اقدامات اُٹھائے جانے چاہئیں۔ وہ جمعرات کو یہاں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں پاکستان میں متعین افغانستان کے سفیرڈاکٹر عمرزخیل وال سے ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے ۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا امجد علی خان، سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس،کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات کے دوران خطے میں امن عامہ کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی اور باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیل وال نے اس موقع پر صوبے میں افغان مہاجرین کو درپیش مسائل حل کرنے میں صوبائی حکومت خصوصاً محکمہ پولیس کے تعاون کو سراہا اور کہا کہ وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ مہاجرین باعزت طور پر افغانستان واپس جائیں مگر اس وقت افغانستان میں بھی امن عامہ کی ناخوشگوار صورتحال کی وجہ سے وہ واپس آجاتے ہیں انہوں نے اس صورتحال کا سدباب کرنے کا یقین دلایا۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہاکہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونا دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ اصل مسئلہ مہاجرین نہیں بلکہ غیر رجسٹرڈ غیر ملکی ہیں کیونکہ اس وقت ہمیں وسیع پیمانے پر خطرات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کیلئے رجسٹریشن ناگزیر ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی نے امن عامہ کی موجودہ صورتحال ، خطرات اور سیکیورٹی کے تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہاکہ وہ شناخت کے سلسلے میں مہاجرین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کر رہے بلکہ بلا تفریق سب کی چیکنگ کرتے ہیں اگر کوئی پاکستانی بھی شناختی کارڈ نہیں رکھتا تو اسے قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے افغان سفیر نے خطے میں امن کے قیام ، فریقین کے درمیان رابطے کی بہتری اور مشکلات کو کم کرنے کیلئے اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون اور بھر پور اقدامات کا یقین دلایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…