منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

ہفتے میں 30منٹ کیلئے یہ کام کریں اور پائیں خود میں عجیب و غریب تبدیلی

datetime 25  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرہفتے میں صرف 30منٹ کا وقت کسی پرفضا مقام پرگزارا جائے تو اس سے نہ صرف ذہنی تنا کم ہوتا ہے بلکہ دل کے عارضے کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی پارک یا پرفضا مقام پرجانے، ہائکنگ کرنے اورکسی پارک میں گزارا گیا ایک گھنٹہ بھی ہائی بلڈ پریشر کو روکتا ہے اور ڈپریشن کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کوئی سرسبز و شاداب مقام ہو۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ہفتے میں صرف آدھ گھنٹہ کسی پارک میں گزارا جائے تو ڈپریشن کے واقعات میں 7فیصد اور ہائی بلڈ پریشر میں 9فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے۔
ماہرین کی تحقیق میں لوگوں کے پرفضا مقام پر جانے کے دورانیے، وہاں گزارے گئے وقت اور خود اس مقام کے بارے میں ڈیٹا حاصل کیا گیا یعنی وہاں سبزے کی مقدارکا جائزہ لیا گیا۔ اس میں درمیانے اورشدید درجے کی ڈپریشن اورلوگوں کا بلڈ پریشرنوٹ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ پرفضا مقام پر لوگوں کی جانب سے واک اور دیگر جسمانی ورزش کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر ہفتے میں کسی سبزے والی جگہ پر 90منٹ واک کی جائے تو اس سے دماغی سرکٹ میں مثبت تبدیلی واقع ہوتی ہے جس سے منفی خیالات اور ذہنی تنا کم ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…