منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی پبلک اسکول کا ایک اور طالبعلم دم توڑ گیا

datetime 21  فروری‬‮  2015 |

پشاور: آرمی پبلک اسکول، پشاور پر حملے کا ایک اور زخمی طالب علم ہفتے کو دوران علاج چل بسا۔

 آرمی پبلک اسکول پر حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والا دسویں جماعت کا طالب علم اسحاق امین ہفتے کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) میں زخموں کی تاب نہ لاکر جان کی بازی ہار گیا۔

ہلاک ہونے والے طالب علم کے بھائی وقار کے مطابق 16 دسمبر کو اسکول پر ہونے والے حملے میں اسحاق شدید زخمی ہوگیا تھا اور اس کی حالت تشویش ناک تھی۔

ڈپٹی کمشنر آفس کے مطابق اب تک اس واقعے میں 132 بچوں سمیت 144 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں زیادہ تر معصوم بچے ہلاک ہوئے۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق دہشت گرد کسی کو یرغمال بنانے نہیں، مارنے کی ہی نیت سے آئے تھے۔

عاصم باجوہ نے بتایا کہ دہشت گرد اسکول میں سیڑھی لگاکر داخل ہوئے اور مرکزی ہال میں پہنچ کر فائرنگ کردی جبکہ خارجی راستوں پر بھی بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں کا ہدف یرغمال بنانا نہیں بلکہ مارنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کہیں محفوظ نہیں رہے گی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

سانحہ میں زخمی ہونے والے دس بچوں اور ایک ٹیچر کو رواں ہفتے بدھ کو علاج کی غرض سے کراچی کے آغا خان یونورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

آرمی پبلک اسکول میں جان کی بازی ہارنے والے بچوں کے والدین کی جانب سے بنائے گئے شہداء وغازی فورم کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ شدید زخمی بچوں کو بہترعلاج کے لیے کراچی بھیجا جائے گا۔

فورم کے بانی علی صاحب نے ڈان سے گفتگو میں بتایا کہ کچھ بچوں کے جسم میں ابھی تک گولیاں موجود ہیں جبکہ کچھ اساتذہ کمر اور کولہے میں شدید درد کی شکایت کرتے ہیں، لہذا ان بچوں اور ٹیچرزکی آغا خان ہسپتال کے آرتھو پیڈک اور نیوروسرجری وارڈز میں دیکھ بھال کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…