اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

پانی میں رہنے والے جانوروں کا جسم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا ہونے کا انکشاف

datetime 21  فروری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔۔ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پانی میں رہنے والے جانوروں کا جسم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا گیا۔جنرل سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کے جسم کا پھیلاؤ اتفاقیہ نہیں ہوا بلکہ ایسا اس وقت سے ہو رہا ہے جب زمین پر ابتدائی طور پر جانوروں کے ڈھانچوں کی بڑے پیمانے پر دریافت ہوئی۔حالیہ معلومات آبی زندگی کے حال اور ماضی سے متعلق بڑے پیمانے پر کیے جانے والے ایک سروے سے حاصل ہوئی ہیں۔اگرچہ جانوروں کے جسم کا حجم بڑھنے کے بارے میں یہ وضاحت نہیں کی جا سکتی کہ کیا ایسا بے ترتیب اور فطری طور پر ہوا۔گذشتہ 50 کروڑ 42 لاکھ سال میں آبی جانوروں کے جسم کی اوسط ساخت 150 فیصد تک بدلی ہے۔
ممالیہ کے اجداد

19 ویں صدی میں قدیم حیات کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نے یہ نشاندہی کی کہ جدید ممالیہ کی آباواجداد قدرے چھوٹے تھے جیسے 5 کروڑ سال قبل گھوڑے کی جسامت کتے جتنی تھی۔آج ہمارے سامنے موجود نیلی ویل کی جسامت کیمبریئن( ڈھانچوں کی پہلی بار دریافت کے وقت سے) کے دور کے سب سے بڑے جانور سے ایک لاکھ گنا زیادہ بڑی ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید قدرتی طور پر نئے جانوروں کی نسبت ان جانوروں کا سلسلہ محفوظ رہتا ہے جن کا وزن بتدریج بڑھتا جاتا ہے۔اسے ’کوپس کا اصول‘ کہتے ہیں جسے امریکی آثارِ قدیمہ کے ماہر ایڈورڈ ڈرنکر کوپ نے متعارف کروایا۔19 ویں صدی میں قدیم حیات کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نے یہ نشاندہی کی کہ جدید ممالیہ کی آباو اجداد قدرے چھوٹے تھے جیسے 5 کروڑ سال قبل گھوڑے کی جسامت کتے جتنی تھی۔تاہم تمام جانوروں میں ایسا نہیں تھا بہت سے ایسے گروہ ہیں جو اپنے معدوم ہونے تک بڑے تھے جیسے کہ ڈائناسور مگر پرندے اپنے ارتقا کے دوران ضرورت کے مطابق چھوٹے ہوتے چلے گئے اور ان کا وزن کم ہوا۔
آبی حیات کی 17000 اقسام

اس تحقیقاتی ٹیم نے اب تک 17000 سے زائد اقسام کے جانوروں کے گروہوں کی معلومات اکھٹی کی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہ ماضی میں بسنے والے 60 فیصد جانوروں کی معلومات ہیں۔کیلی فورنیا کی سٹین فورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر نوئل ہیم ’کوپس‘ کو مانتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں، یونیورسٹی اور ہائی سکول کے طالب علموں کی مدد سے جانوروں کی جسامت کا سائنسی بنیادوں پر ڈیٹا تیار کیا۔بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ پچھے پانچ سال سیاس کام میں ہمارے ساتھ ہائی سکول کے کم ازکم 50 طالب علم حصہ لے رہے ہیں۔اس تحقیقاتی ٹیم نے اب تک 17000 سے زائد اقسام کے جانوروں کے گروہوں کی معلومات اکھٹی کی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ یہ ماضی میں بسنے والے 60 فیصد جانوروں کی معلومات ہیں۔ڈاکٹر ہیمن کے مطابق سمندر کی کیمیائی حالت بھی آبی حیات پر اہم اثر ڈالتی ہے جس میں آکسیجن کا بڑھنا وغیرہ شامل ہے۔یونیورٹسی آف لیور پول میں ارتقائی علوم میں فزیالوجسٹ ڈاکٹر مائکل برینبرنک کے خیال میں امریکی ٹیم نے ایک غیر معمولی ڈیٹا تیار کیا ہے تاہم وہ تجویز دیتے ہیں کہ حاصل معلومات سے احتیاط کے ساتھ نتائج اخذ کیے جائیں۔بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی میں ممالیہ جانوروں کی واپسی تھی جس کے بعد بلآخر آج ہمیں سمندر میں ویل دکھائی دیتی ہے۔
’آپ اس ڈیٹا کو دیکھ سکتے یں اس میں جسم بڑھنے کا رجحان نظر آتا ہے، لیکن اصل موڑ تب آیا جب ہوا میں سانس لینے والوں کی سمندر میں واپسی گئی۔‘وہ مزید بتاتے ہیں کہ ہوا میں سانس لینے سے زیادہ مقدار میں آکسیجن جانوروں کی بافتوں میں داخل ہوتی ہے اور پھر وہ لہروں کے اندر بڑے جسم کے ساتھ رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…