اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

آپ کو معلوم ہے ہر قسم کی ورزش آپ کیلئے اچھی نہیں، تو جانیں آپ کو کیا کرنا چاہئیے

datetime 18  فروری‬‮  2015 |

لندن۔۔۔۔۔کیا آپ کا جسم وزن بڑھنے کی طرف مائل ہوتا ہے یا آپ ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو بنا کچھ کیے چربی ختم کر لیتے ہیں؟ہر انسان کا جسم مختلف ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح انگلیوں کے پرنٹ مختلف ہوتے ہیں۔تاہم ہم ہڈیوں، پٹھوں اور جسم کی چربی کے حساب سے جسموں کو تین اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ جاننے کے لیے کہ آپ کے جسم کے لیے کون سی ورزش اہم ہے آپ کو اپنے جسم کے بارے میں معلومات ہونا ضروری ہے۔سپین میں کھیلوں کی سائنس، تربیت اور فٹنس سینٹر کے پروفیسر خوان فرانسیسکو مارکو کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ ’جب ورزش کی بات آتی ہے تو مفادات کا تصادم سامنے آتا ہے۔‘’آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ کو بظاہر جسم کی خوبصورتی چاہیے یا آپ نے اپنے اندر طاقت پیدا کرنی ہے۔‘جسم کی تین اقسام ہوتی ہیں جو ’somatotype‘ سوماٹو ٹائپ یعنی جینیاتی اور جسمانی رویوں پر مبنی ہوتی ہیں۔
ایکٹو مورف یعنی برہیہ

طویل فاصلے کے مقابلے لمبے لوگوں کے لیے فائدے مند ہیں تاہم انھیں وزن بڑھانے کے پروگرامز پر بھی عمل کرنا چاہیے
پروفیسر مارکو وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اس قسم کے لوگ پتلے اور لمبے ہوتے ہیں اور ان میں پتلے رہنے کا رجحان ہوتا ہے۔ ان کے اعضا لمبے ہوتے ہیں اور چھاتی چپٹی ہوتی ہے اور ان میں پٹھوں کا گوشت بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔‘اس قسم کے لوگوں کے لیے کارگردگی کے لحاظ سے بہترین کھیل تیراکی اور سائیکلنگ ہو سکتے ہیں۔ تاہم پروفیسر مارکو تنبیہہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو وزن اور طاقت بڑھانے کے پروگرام کے تحت پٹھوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔’ایسے افراد کو وہ ورزش کرنی چاہیے جس سے ان کے جوڑ حرکت میں آئیں۔ اس سے بڑے پٹھے بڑھتے رہتے ہیں اور چھوٹوں پٹھے کام کرتے ہیں۔‘
ایروبک ان کے لیے زیادہ مفید نہیں ہوتی کیونکہ جسم کی اس قسم کے لیے وزن کم کرنا اور پٹھوں نشو و نما روکنا بہت آسان ہوتا ہے۔
اینڈو مورف یعنی در معدن

لوگ چھوٹے قد اور گول جسم کے مالک ہوتے ہیں انھیں قلبی برداشت کی ورزشیں کرنا چاہیئیں
اینڈو مورف نامی جسم کی یہ قسم ایکٹو مورف کے بالکل متضاد ہوتی ہے۔ یہ لوگ چھوٹے قد اور گول جسم کے مالک ہوتے ہیں۔ ان میں میٹابولزم بہت سست ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں چربی جمع ہوتی ہے اور اس قسم کے جسم میں پٹھے بہت آسانی سے بڑھتے ہیں۔اینڈو مورف طاقت کے استعمال والی وزشوں میں بہت اچھے ہوتے ہیں اور اس کا سہرا ان کی پٹھوں کی نشوونما کی صلاحیت کو جاتا ہے۔اس قسم کے افراد کو ورزش کے ایسے معمول کی ضرورت ہوتی ہے جس میں قلبی برداشت بڑھانے پر زور دیا جائے۔
پروفیسر مارکو کہتے ہیں ’انھیں ایروبک سے شروع کرنا چاہیے اور زیادہ شدت والی ایناروبک (ہوا کے بغیر زِندہ رہنے کی طاقت پیدا کرنے والی ورزش) تک جانا چاہیے۔ ان لوگوں کے لییایکٹو مورف کی نسبت زیادہ شدت سے جوڑوں کو حرکت دینا فائدہ مند ہوتا ہے۔‘اس قسم کے جسموں کے لیے ایسے کھیل زیادہ مناسب ہیں جن میں قوت، طاقت اور توازن شامل ہوں جیسیکہ ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ۔لیکن اس قسم کے جسم کے لیے ورزش کرتے ہوئے کچھ حقائق کو ذہن نشین رکھنا چاہیے۔’ہمارا مقصد پٹھوں کی نشوونما اور جسم کی چربی میں کمی کرنا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتیجتاً ہمیں انتہائی موٹے اور بے ڈول لوگ ملیں گے۔‘جسمانی فٹنس کے ماہر نے خبردار کیا ہے کہ ’نفسیاتی طور پر اس قسم کے لوگ بہت کمزور ہوتے ہیں۔ انھیں ورزش کی جانب مائل کرنا مشکل ہوتا ہے، یہ لوگ ناکامی یا جلد نتائج دکھائی نہ دینے کی صورت آسانی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔‘
میسمومورف یعنی میان شکل

میسمومارف قدرتی طور پر ایتھلیٹ ہوتے ہیں اور ہر کھیل میں اچھے ہوتے ہیں
اس قسم جسم رکھنے والے لوگوں کو سب سے زیادہ جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بغیر کسی کوشش کے ایتھلیٹ بن سکتے ہیں۔پروفیسر مارکو کے بقول ’میسمومورف قدرتی طور پر سپورٹس مین ہوتے ہیں۔ یہ جو بھی کرتے ہیں اچھا کرتے ہیں۔‘’ہمارے پاس ایسی مثالیں ہیں کہ کچھ فٹ بالرز نے اچانک پیڈیل (ایک قسم کی اِن ڈور ٹینس) کھیلنا شروع کیا اور بہت اچھا کھیلا۔ وہ باسکٹ بال اچھا کھیلتے ہیں، انھوں نے برداشت اور رفتار کے مقابلوں میں بھی بہترین کارکردگی دکھائی۔‘اس قسم کے جسموں کے لیے بہترین ورزشیں ایسے کھیل ہیں جن میں برداشت اور طاقت کا استعمال ہو اور ایسی متبادل ورزشیں اختیار کرتے رہیں جن میں پٹھوں کی بناوٹ اور قلبی برداشت پیدا کرنے کی حرکات شامل ہوں۔
ٹینس، فٹ بال، روئنگ اور ٹرائی ایتھلون ایسے افراد کے لیے بہترین کھیل ہیں۔
پروفیسر مارکو نے واضح کیا ہے کہ ’ان تمام فوائد کے باوجود جن سے میسمومورف گروہ کے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں انھیں اپنی خوراک پر دھیان دینا چاہیے۔ چونکہ ان میں جسم کی چربی کو جمع کرنے کا رجحان بھی ہوتا ہے لیکن یہ اتنا تیز نہیں ہوتا جتنا اینڈومورف میں ہوتا ہے۔‘لیکن ان دونوں میں ہی یعنی اینڈو مورف اور میمسومورف میں ایکٹومورف جیسی صلاحیت نہیں ہوتی جو اپنی من پسند اشیا کھاتے ہیں اور اپنے تیز میٹابولزم کی وجہ سے اسے ہضم کر لیتے ہیں۔‘یہ جاننا کہ آپ کا جسم کون سی قسم کا ہے بہت اہم ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی ایک قسم یا دوسرے قسم کے جسم رکھنے والوں کے لیے وزرشوں کا امتزاج موجود نہیں ہے۔سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس بات کا علم ہو کہ ہمارا حتمی مقصد کیا ہے، ورزش اور خوراک کا ایسا معمول بنانا جو آپ کی ضرورت کے مطابق ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…