منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

115 سال پرانا عدالتی نظام ختم، پاکستان کے اہم ترین علاقے میں شرعی نظام عائد کرنے کا فیصلہ

datetime 2  جولائی  2016 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے قبائلی علاقہ جات میں 115سال سے نافذ ایف سی آر کے نظام کو ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ شریعی نظام عدل کا نفاذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ کار کو قبائلی علاقہ جات تک توسیع دے دی جائے گی۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کیلیے اس سلسلے میں تیار کیے گئے مجوزہ ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت ہائیکورٹ کی مشاورت سے جن ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی تقرری کرے گی وہ قاضی کہلائیں گے جن کی مدد کیلیے جرگہ موجود ہوگا جس کے 4 یا اس سے زائد ارکان ہوں گے جن کا تقرر قاضی (ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج)کرے گا، مذکورہ نیا نظام جو1901 سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کو ختم کرتے ہوئے لایا جا رہا ہے جس کے تحت پولیٹیکل ایجنٹس بطورڈسٹرکٹ مجسڑیٹس کام کریں گے جبکہ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس، ایجنسیوں میں بطور ایگزیکٹو مجسٹریٹس خدمات انجام دیں گے۔قبائلی علاقہ جات کیلیے تیارکردہ نظام عدل کے نظام کے تحت عدالتی سیٹ اپ پشاورہائی کورٹ ہی کے زیر انتظام فاٹا میں کام کرے گا جو فاٹا کو مستقبل میں خیبر پختونخوا میں ضم کرتے ہوئے اس کا حصہ بنانے کی جانب پیش قدمی ہے جس کے بعد فاٹا کو خیبرپخونخوا میں شامل کرنے میں 5 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے تاہم قانونی دائروں میں فاٹا کی شمولیت اس حوالے سے پہلا قدم ہے، فاٹا میں نافذکیے جانے والے نظام عدل کے نظام کے تحت قاضیوں کو سول اور کریمینل دونوں قسم کے مقدمات میں قبائلی رسومات اور رواج کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اورکوئی بھی متاثرہ پارٹی عدالت میں درخواست دیتے ہوئے کیس میں رواج کی بنیاد پر فیصلہ مانگ سکتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…