منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان بھارت مقابلہ قریب ، سب کے دل کی دھڑکنیں تیز، جا ننے کیلئے کلک کریں

datetime 14  فروری‬‮  2015 |

ایڈیلیڈ: ورلڈکپ کا میچ قریب آنے پر پاکستانی اور بھارتی پلیئرزکے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں، روایتی حریفوں نے اتوار کو فاتحانہ آغاز کرنے کیلیے کمر کس لی۔

گرین شرٹس نے ایڈیلیڈ میں بھرپور پریکٹس سے اپنے ہتھیار چمکائے،دونوں ٹیموں کیلیے آؤٹ آف فارم کھلاڑی تشویش کا باعث ہیں،فٹنس مسائل کے باوجود حوصلے بلند رکھتے ہوئے پرفارم کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا،انجریز سے نبرد آزما پاکستانی اسکواڈ کو احمد شہزاد کی کہنی کے زخم نے تشویش میں مبتلا کردیا،طبی معائنے کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے اوپنر کی حالت کو تسلی بخش قراردیا ہے،دوسری جانب عمراکمل وکٹ کیپنگ کی مشق بھی کرتے نظرآئے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شائد سرفراز احمد پلیئنگ الیون کا حصہ نہ بن سکیں۔ منیجر نوید اکرم چیمہ کا کہنا ہے کہ وارم اپ میچ میں انگلینڈ کیخلاف فتح سے کھلاڑیوں کا خود پر یقین بڑھ گیا، بیشتر نے فارم حاصل کرلی، روایتی حریف سے ورلڈکپ میں ہمیشہ ہارنے کی روایت بدلنے کیلیے پُرعزم ہیں، بھارتی بیٹسمین روہت شرما کا کہنا ہے کہ تمام تر دباؤ پہلی فتح کو ترستی حریف ٹیم پر ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پاک بھارت میچ کیلیے شائقین کی بے تابی بڑھتی جا رہی ہے، پلیئرز بھی نیٹ پریکٹس  سے خامیاں دور کرنے میں لگے ہیں، ہیڈ کوچ وقار یونس نے معاون اسٹاف کے ہمراہ بولنگ اور بیٹنگ کی مشقیں کرائیں، اس دوران ہائی وولٹیج میچ کیلیے ممکنہ پلیئنگ الیون کے حوالے سے کوچ، کپتان اور مینجمنٹ کے ارکان میں تبادلہ خیال بھی جاری رہا،پریکٹس کے دوران ہی احسان عادل کی ایک گیند اوپنر احمد شہزاد کی کہنی پر لگی جس سے پاکستانی اسکواڈ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، اوپنر کو فوری طور پر اسپتال لے جاکر ایکسرے کرایا گیا، ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ کہنی میں فریکچر نہیں اور انجری معمولی نوعیت کی ہے، بطور احتیاط طبی معائنہ کرایا گیا، معمولی سوجن کی وجہ سے ڈاکٹرز نے آئسنگ کی ہدایت کردی ہے، اوپنر ہفتے کو پریکٹس نہیں کریں گے تاہم بھارت کیخلاف میچ کیلیے دستیاب ہیں۔

یاد رہے کہ ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی پاکستانی ٹیم فٹنس کے مسائل کا شکار رہی ہے،جیند خان منتخب ہونے کے بعد تربیتی کیمپ میں زخمی ہوئے اور اسکواڈ کے ہمراہ نہ جا سکے،ان کا خلا راحت علی سے پُر کیا گیا، محمد حفیظ بھی انجرڈ ہوکر وطن واپس چلے گئے،ان کی جگہ ناصر جمشید کو ملی ہے، بنگلہ دیش سے پاکستان کے پہلے وارم اپ میچ میں سہیل خان پنڈلی میں چوٹ کے سبب میدان سے باہر چلے گئے تھے تاہم فاسٹ بولر انگلینڈ سے دوسرے وارم اپ میچ میں ایکشن میں نظر آئے۔دوسری جانب 4ماہ سے آسٹریلیا میں موجود شکست خوردہ بھارتی ٹیم کے کئی پلیئرز انجریز، تھکاوٹ اور اکتاہت کا شکار ہیں، سابق کپتان ساروگنگولی نے تو اسکواڈ کو چند روز آرام کیلیے وطن واپس بھجوانے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیا گیا، پیسر ایشانت شرما کے میگا ایونٹ سے باہر ہونے پر پیس اٹیک کا بوجھ بھونیشور کمار کو اٹھانا تھا لیکن ان کی فٹنس بھی مشکوک ہے۔

3ٹیسٹ سے محرومی کے بعد کینگروز سے ون ڈے سیریز میں بھی صرف 2 میچز کھیلنے والے بولر ایک وارم میچ میں صرف5اوورز کر سکے اور دوسرے میں ایکشن میں ہی نظر نہیں آئے،انھوں نے ایڈیلیڈ میں پریکٹس سیشن کے دوران کئی گیندیں کیں لیکن رفتار کم اور رن اپ مختصر رکھا،جمعرات کی طرح جمعے کو بھی بیٹسمین اسٹول کی بلندی سے پھینکی گیندوں کو کھیلنے کی مشق کرتے رہے تاکہ طویل قامت محمد عرفان کی بولنگ زیادہ پریشان نہ کرے،سریش رائنا نے ایک طویل سیشن کیا،شاہد آفریدی اور یاسر شاہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ویرات کوہلی اور مہندرا سنگھ دھونی نے اسپنرز کیخلاف جارحانہ بیٹنگ کی۔ منیجر نویداکرم چیمہ نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ آسٹریلیاآمد کے وقت پاکستانی اسکواڈ اپنی بہترین فارم میں نہیں تھا لیکن وقار یونس سمیت کوچنگ اسٹاف، کپتان اور کھلاڑیوں کی میٹنگز میں یہی عزم دہرایا جاتا رہا کہ ہم ناکامی کی کھائی سے نکل سکتے ہیں، اس یقین کی دولت حاصل ہوتے ہی پاکستان نے دونوں وارم اپ میچز جیتے، بھارت کیخلاف ورلڈکپ میچ سے قبل انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کیخلاف فتح سے پلیئرز کا مورال بلند ہوا ہے، فارم حاصل کرنے کے بعد کھلاڑی روایتی حریف کیخلاف تاریخ بدلنے کیلیے تیار ہیں،انھوں نے کہا کہ پاکستان نے میگا ایونٹ میں بلو شرٹس کے مقابل کبھی فتح حاصل نہیں کی لیکن ہر کام کبھی نہ کبھی تو پہلی بار ہوتا ہے اور اعتماد ہے کہ اس مرتبہ ایسا ہی ہوگا۔

بھارتی بیٹسمین روہت شرما نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں کامیابی کیلیے بہترین کھیل پیش کرنا ہوگا، گرین شرٹس کبھی ہمارے کے خلاف فتح نہیں حاصل کرسکے اس لیے دباؤ بھی انہی پر ہوگا، انھوں نے کہا کہ اپنے اولین ورلڈکپ کو پہلے ہی میچ میں یادگار بنانے کا عزم لیے میدان میں اتروں گا، ہم حمایت کیلیے آنے والے شائقین کو خوشی سے معمور واپس لوٹانا چاہتے ہیں، بیٹسمین سریش رائنا نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں ہمارے نوجوان پلیئرز نے پاکستان کے مقابل عمدہ پرفارم کیا، اس بار بھی تاریخ دہرانا مشکل نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…