منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی معیشت کے اعدادوشمار پر ماہرین کو اعتبار نہیں

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

نئی دہلی۔۔۔۔۔بھارت کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ملک کی معیشت میں گذشتہ برس اکتوبر سے دسمبر کے دوران 7.5 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔لیکن معاشی ترقی کے نئے اعداد اعدادوشمار کے حوالے سے کچھ ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ جی ڈی پی کو ماپنے کے طریقہ کار بدل دیاگیا ہے۔
معاشیات کے ماہرین نے متنبہ کیا ہے ان اعدادو شمار کو احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت کی معیشت کی گذشتہ تین ماہ کی ترقی پر نظر ثانی کر کے اسے 8.2 فیصد دکھائی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے 5.3 فیصد ترقی کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔بھارت کی شماریات کی وزارت نے رواں برس مارچ کے اختتام تک معاشی ترقی کا ہدف 7.4 فیصد مقرر کیا ہے۔بھارت میں گذشتہ تین ماہ کی شرح نمو کو 8.2 تک تبدیل کیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے یہ شرح 5.3 فیصد تھی۔بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیا فارمولا بین الاقوامی معیار کینزدیک ترین ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا ڈیٹا دیگر معاشی پیمانوں جس میں بھارت کی صنعتی اور فیکٹری کی پیداوار بھی شامل ہے، سے مطابقت نہیں رکھتا۔چند معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ اعداد و شمار کو شک کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ایسے وقت جب بھارت کا اپنا مرکزی بینک معیشت کی ترقی میں سست روی کی بات کر رہا ہے ایسے وقت میں ترقی کے نئے اعداد و شمار مشکوک ہو جاتے ہیں۔ایچ ڈی ایف سی کے ماہرِ معاشیات جوتندر کوہل نے بھی اس اعداو شمار پر سوالات اٹھائے ہیں۔انھوں نے اعداد و شمار کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے سنہ 1980 کے بعد سے شرح نمو کے تناسب کے ساتھ بھارت کی معاشی ترقی بدترین سست روی کا شکار رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…