منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چھوٹے قد والے بھی خوش ہو جائیں، اب وہ بھی اپنا قد بڑا کر سکتے ہیں

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

نئی دلی……. قد بڑھانے کے لئے مشرق و مغرب میں طرح طرح کے طریقے رائج ہیں لیکن بھارتی دارالحکومت کے شری بالاج ایکشن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے ڈاکٹر امرسارین ہڈیاں توڑ کر قد بڑھانے کا طریقہ استعمال کررہے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طریقہ سے مستفید بھی ہورہی ہے۔

حال ہی میں 21 سالہ روہن گپتا کی کہانی میڈیا میں خبروں کا موضوع بن گئی کیونکہ انہوں نے بھی ڈاکٹر سارین سے ہڈیاں تڑوا کر قد میں اضافہ کیا۔ روہن کہتے ہیں کہ وہ چار ماہ تک شدید تکلیف کی حالت میں بستر پر پڑے رہے لیکن جب وہ اٹھے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ ان کے قد میں ساڑھے تین انچ کا اضافہ ہوچکا تھا۔
روہن کا قد پانچ فٹ چار انچ تھا مگر اب وہ پانچ فٹ ساڑھے سات انچ قد کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر سارین روسی طریقہ علاج استعمال کرتے ہیں جسے لیزا روف تکنیک کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں ٹانگ میں Tibiaنامی ہڈی کو توڑ دیا جاتا ہے اور پھر ٹوٹی ہوئی ہڈی کے دونوں اطراف کو سٹیل کی سلاخوں کی مدد سے اطراف کی جانب کھینچ کر رکھا جاتا ہے۔ اس دوران توڑی گئی ہڈی کی جگہ پر نئی ہڈی قدرتی طور پر بننا شروع ہوجاتی ہے اور اس کے گرد عضلات، رگیں اور جلد بھی قدرتی طور پر بنتے ہیں۔
ڈاکٹر سارین کہتے ہیں کہ اس تکنیک کے استعمال سے ہڈی میں ایک ملی میٹر یومیہ کا اضافہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سارین اس آپریشن کے لئے چھ لاکھ بھارتی روپے کی فیس لیتے ہیں جبکہ آپریشن کے چار ماہ بعد فیزیوتھراپی کا عمل شروع کیا جاتا ہے جو کہ تین ماہ جاری رہتا ہے اور اس کی فیس علیحدہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سارین کے مطابق پہلے ان کے کلائنٹ صرف امریکہ چین اور روس جیسے ممالک سے آتے تھے لیکن اب بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد بھی ہڈیاں تڑوا کر قد میں اضافہ کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…