ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

چھوٹے قد والے بھی خوش ہو جائیں، اب وہ بھی اپنا قد بڑا کر سکتے ہیں

datetime 10  فروری‬‮  2015 |

نئی دلی……. قد بڑھانے کے لئے مشرق و مغرب میں طرح طرح کے طریقے رائج ہیں لیکن بھارتی دارالحکومت کے شری بالاج ایکشن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے ڈاکٹر امرسارین ہڈیاں توڑ کر قد بڑھانے کا طریقہ استعمال کررہے ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طریقہ سے مستفید بھی ہورہی ہے۔

حال ہی میں 21 سالہ روہن گپتا کی کہانی میڈیا میں خبروں کا موضوع بن گئی کیونکہ انہوں نے بھی ڈاکٹر سارین سے ہڈیاں تڑوا کر قد میں اضافہ کیا۔ روہن کہتے ہیں کہ وہ چار ماہ تک شدید تکلیف کی حالت میں بستر پر پڑے رہے لیکن جب وہ اٹھے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ ان کے قد میں ساڑھے تین انچ کا اضافہ ہوچکا تھا۔
روہن کا قد پانچ فٹ چار انچ تھا مگر اب وہ پانچ فٹ ساڑھے سات انچ قد کے مالک ہیں۔ ڈاکٹر سارین روسی طریقہ علاج استعمال کرتے ہیں جسے لیزا روف تکنیک کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں ٹانگ میں Tibiaنامی ہڈی کو توڑ دیا جاتا ہے اور پھر ٹوٹی ہوئی ہڈی کے دونوں اطراف کو سٹیل کی سلاخوں کی مدد سے اطراف کی جانب کھینچ کر رکھا جاتا ہے۔ اس دوران توڑی گئی ہڈی کی جگہ پر نئی ہڈی قدرتی طور پر بننا شروع ہوجاتی ہے اور اس کے گرد عضلات، رگیں اور جلد بھی قدرتی طور پر بنتے ہیں۔
ڈاکٹر سارین کہتے ہیں کہ اس تکنیک کے استعمال سے ہڈی میں ایک ملی میٹر یومیہ کا اضافہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سارین اس آپریشن کے لئے چھ لاکھ بھارتی روپے کی فیس لیتے ہیں جبکہ آپریشن کے چار ماہ بعد فیزیوتھراپی کا عمل شروع کیا جاتا ہے جو کہ تین ماہ جاری رہتا ہے اور اس کی فیس علیحدہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سارین کے مطابق پہلے ان کے کلائنٹ صرف امریکہ چین اور روس جیسے ممالک سے آتے تھے لیکن اب بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد بھی ہڈیاں تڑوا کر قد میں اضافہ کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…