ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

جامعہ حفصہ میں مقیم خاتون عظمیٰ قیوم اور ان کے والدین کے درمیان صلح ہو گئی، گھر جانے کا حکم

datetime 9  فروری‬‮  2015 |

اسلام آباد۔۔۔۔۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی عدالت نے لال مسجد سے منسلک جامعہ حفصہ میں مقیم خاتون عظمیٰ قیوم اور ان کے والدین کے درمیان صلح ہونے پر عظمیٰ کو گھر جانے کا حکم دیا ہے۔عظمیٰ قیوم کے والد شیخ محمد قیوم نے پشاور کے سانحے کے بعد لال مسجد کے سابق خطیب کو ان کے طالبان نواز رویے کے بعد عدالت سے رجوع کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو جامعہ حفصہ والوں نے ’یرغمال بنایا ہوا ہے اور ان کی برین واشنگ کر دی ہے‘۔شیخ قیوم کے مطابق ان کی 26 سالہ بیٹی جون 2014 میں جامعہ حفصہ گئی تھیں اور تب سے وہ ادھر ہی مقیم تھیں۔شیخ قیوم کے وکیل محمد حیدر امتیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل نے ہیوم رائٹس سیل میں درخواست دی تھی جس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس کیس کو سیشن کورٹ بھیجا۔
شرائط کیا ہیں؟

عظمیٰ قیوم کی شرائط
مزید تعلیم جاری رکھیں گی
گھر میں شرعی ماحول ہو گا
شادی میری مرضی سے ہو گی
جامعہ حفصہ کے لوگوں سے ملنے کی اجازت ہو گی
والدین کی شرائط
عظمیٰ اب گھر سے نہیں بھاگیں گی
جامعہ حفصہ کے لوگوں سے والدین کی موجودگی میں ملاقات
حیدر امتیاز نے بتایا کہ والدین اور بیٹی کے درمیان ایک صلح نامہ ہوا ہے۔ ’کچھ شرائط عظمیٰ کی تھیں اور کچھ ان کے والدین کی۔ دونوں شرائط ماننے پر رضا مند ہو گئے ہیں جس پر سیشن کورٹ جج نذیر احمد گجانہ نے عظمیٰ کو والدین کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔‘شیخ قیوم کے وکیل نے مزید بتایا کہ پیر کو جامعہ حفصہ کی منتظم امِ حسان کو طلب کیا اور کہا کہ ’صلح نامہ ہو گیا ہے اور اب آپ بھی اس معاملے کی مزید پیروی نہ کریں۔‘حیدر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موکل کی جانب سے ایک حلف نامہ عدالت میں جمع کرا دیں گے جس کے بعد ان کے موکل اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔وکیل حیدر امتیاز کے مطابق سیشن جج ویسٹ نے سیکشن 491 کے تحت کارروائی کی اور عظمیٰ کو پہلے جامعہ حفصہ سے دارلامان بھجوایا گیا تاہم وہاں اس کی والدین سے ملاقات نہیں ہو سکی۔بعدازاں عظمیٰ کو خواتین کے شیلٹر ہوم میں دس روز تک رکھا گیا اور پھر والدین سے ملاقات کا انتظام کیا گیا۔’جب وہ دارلامان میں تھیں تو وہ خاندان سے بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ تاہم جب وہ شیلٹر ہوم میں گئیں تو خاندان سے روز ملاقاتیں ہوئیں تو صورتحال بہتر ہوئی۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…