پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

محمد علی کے مر نے سے پہلے آخری الفا ظ کیا تھے؟

datetime 6  جون‬‮  2016 |

نیویارک (ما نیٹر نگ ڈیسک )سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن محمد علی کے ڈاکٹرنے کہاہے کہ انھوں نے مرنے سے قبل ’آخری سال میں انتہائی سخت وقت گزارا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تین مرتبہ کے عالمی چمپئن محمد علی کے خاندان والوں نے کہا کہ وہ 32 سال تک پارکنسنز کی بیماری میں مبتلا رہے اور ان کی موت نامعلوم قدرتی وجوہات سے ہونے والے سیپٹک شاک سے74 سال کی عمر میں ہوا۔ابراہم لیبرمین جو علی کے آخری لمحات میں ان کے پاس تھے کا کہنا ہے کہ محمد علی کے آخری ہفتہ خاص طور پر ان پر بہت سخت گزرا اس سے یہ ظاہر ہوا کہ خدا انھیں چاہتا تھا اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑا۔لیبرمین نے بتایا کہ سب کو محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ برا ہونے والا ہے تاہم آپ امید کرتے ہیں کہ آپ اسے شکست دے دیں گے اور محمد علی وہ تھے جنھوں نے ہمیشہ مشکل چیزوں کا سامنا کیا۔ وہ ایک عام شخص نہیں تھے۔وہ اپنے عقائد کیلئے کھڑے ہوئے اور جو انھوں نے سوچا وہ صحیح تھا۔ انھوں عاجز اور بڑی سے بڑی شخصیت کے ساتھ یکساں برتاؤ رکھا جو کہ ٹھیک تھا۔ابراہم لیبرمین نے کہا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کے وہ رنگ کے اندر جیسے تھے اس کے مقابلے میں وہ رنگ سے باہر بہت اچھے تھے۔میں نے ایک بہترین دوست کھو دیا۔ ایریزونا میں محمد علی پارکنسن سینٹر کے ڈائریکٹر ابراہم لیبرمین نے اس خیال کو کہ محمد علی کی بیماری کی وجہ صرف اور صرف باکسنگتھی کو مسترد کیا۔انہوں نے کہاکہ میرا نہیں خیال کہ اس سے مدد ملی تاہم میرے خیال میں آہستہ آہستہ کئی سالوں میں یہ بڑھ گئی ٗان کے مطابق وہ لوگ جو ڈیمنیشیا پگلسٹیکا میں مبتلا ہوتے ہیں عموماً تین سے چار سال میں مر جاتے ہیں۔ محمد علی کو پارکنسن تھا اور وہ 30 سال زندہ رہے ٗیہ ان کے جسم کے ایک حصے سے شروع ہوا، ایم آر آئی میں ان کا دماغ قدرے بہتر دکھائی دے رہا تھا ٗمیں آپ کو بتا سکتا ہوں کے اس میں باکسنگ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ان میں باقاعدہ پارکنسن کے جراثیم موجود تھے۔محمد علی کے ڈاکٹر کو ایک پرانا واقعہ یاد آگیا جب محمد علی نرسنگ ہوم میں آئے اور ایک بزرگ شخص نے انھیں غلطی سے ایک اور عظیم باکسر جو لوئس سمجھ لیا تھا۔محمد علی نے اس پر کہا کہ اگر اس بزرگ شخص کو اس بات سے خوشی ملتی ہے کہ وہ لوئس سے ملے تو پھر میں جو لوئس ہوں۔ڈاکٹر ابراہم نے کہا کہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ محمد علی ایک عظیم شخص تھے لیکن مہربان تھے۔ جن میں لوگوں کے لیے بہت رحم کے احساسات موجود تھے۔انھوں نے بتایا کہ علی کی بیماری کے دوران ان کے خاندان والوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ابراہم کے مطابق ان کی بیماری بڑھ رہی تھی تاہم ان کے خاندان والے ان کے ساتھ تھے جنھوں نے انھیں اسی معیار کی زندگی دی جیسی کے آپ گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھئیے:عظیم باکسر محمد علی کے ہاتھ پر کتنے لاکھ امریکیوں نے اسلام قبول کیا ؟ جان کر ہر زبان سبحان اللہ کہہ اٹھے گی

عظیم مسلمان باکسر محمد علی وفات سے قبل آخری دنوں میں بولنے کے قابل نہیں تھے۔ محمد علی کے آخری الفاظ امریکی صدارتی امیدوار’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ کے بیان پر تھے۔محمد علی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا ’’مسلمانوں پر پابندی کے بیان میں ہم سب مسلمان ایک ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو مسلمانوں پر اپنا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے۔
امریکی ریاست ایریزونا کے اوسبورن میڈیکل سینٹر میں جب عظیم باکسر محمد علی کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی چوتھی بیوی اور 9 بچے ان کے ساتھ موجود تھے۔ محمد علی کی فیملی کا کہنا ہے کہ آخری لمحات میں ان کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ تھی۔ محمد علی کے آخری الفاظ تھے ’’میں رب کائنات کے پاس جارہا ہوں، میرے لیے رونا نہیں۔ میں تکلیف میں نہیں ہوں، رب سے صلح کر لی ہے ‘‘۔انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی اور 72 سالہ سابق ہیوی ویٹ باکسر رحمان علی سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ ’’ میں کیسا لگ رہا ہوں ‘‘، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ آپ پہلے جیسے ہی نظر آرہے ہیں ‘‘۔ بعدازاں رحمان علی اپنی اہلیہ کے ہمراہ محمد علی کے آبائی گھر پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آنسوروکنا پڑ رہے ہیں۔ یہ میری زندگی کا سب سے دکھی دن ہے۔ میرا بھائی چلا گیا، میری خواہش تھی کہ میں پہلے جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی دوسرا محمد علی نہیں آئے گا۔ وہ عظمت کیلئے پیدا ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…