منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

بجٹ 2016/17، ملازمین کے دلوں کی دھڑکنیں تیز، اہم خبر آ گئی

datetime 30  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد (اے پی پی)آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی بجٹ 3جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پہلی مرتبہ چوتھا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو گا۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں دھرنوں اور دیگر مسائل کے باوجود معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لئے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور جو عالمی ادارے جون 2013ء تک پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کی واننگ دے رہے تھے آج وہی جیٹرو، موڈیز، آئی ایف آر، ایشیاء مورگن، اسٹینلے اور فوربز پاکستانی معیشت کے منفی سے مثبت اور مثبت سے مستحکم ہونے کی رپورٹیں دے رہے ہیں، ممالک کی معیشت پر نظر رکھنے والے ان اداروں کی طرف سے پاکستانی معیشت کی ترقی کا اعتراف کیا گیا ہے کیونکہ معیشت کے اعدادوشمار اس بات کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں کہ صرف تین سال قبل پاکستان کی ترقی کی شرح 3فیصد سے کم تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے چار فیصد سے زائد ہو چکی ہے، 324ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جو اب بڑھ کر 1675ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، محاصل کی وصولی کا ہدف 1946ارب روپے سے بڑھ کر 3100ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 8.45فیصد سے بڑھ کر 10فیصد تک آ گئی ہے جسے آئندہ دو سالوں میں 13سے 15فیصد لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تین سال قبل مہنگائی کی شرح 12فیصد تھی جو اب کم ہو کر 2.79فیصد تک آ گئی ہے، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 3سال قبل 2ارب 82کروڑ90لاکھ ڈالر تھے جو بڑھ کر 21ارب ڈالر تک آ چکے ہیں، موجودہ حکومت کی مثبت اقتصادی پالیسیوں سے تین سال قبل بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 13ارب 92کروڑ ڈالر تھی جو اب 16ارب 3کروڑ ڈالر سے تجاوزکرچکی ہے، نجی شعبہ جو تین سال قبل قرض لے کر کاروبار کرنے پر تیار نہ تھا اور یہ شرح منفی تھی لیکن آج نجی شعبہ کی طرف سے 300ارب روپے کا قرضہ لینے سے کاروباری سرگرمیوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے ہیں، زرعی شعبے میں جاری کردہ قرضوں میں 336ارب روپے سے 600ارب روپے تک خطیر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اسی طرح سماجی شعبے میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کی جانے والی رقم 40ارب روپے سے بڑھ کر 105ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف کے ساتھ 11سہ ماہی پروگرام مکمل کیے گئے ہیں اور اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ گزشتہ تین سالوں کے مقابلے میں عوام دوست بجٹ ہو گا اور اس سے ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے ساتھ ساتھ اقتصادی اصلاحات اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…