اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

جاننا ضروری ہے ! عمران خان کواکیس سالہ کیریئر میں دوپلاٹ ملے اور ان پلاٹس کا کیا کیا؟

datetime 16  مئی‬‮  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہاہے کہ لندن کا فلیٹ کبھی نہیں چھپایا، کاؤنٹی کرکٹ کے پیسے سے خریدا،فلیٹ فروخت کرکے بنی گالہ کاگھربنایا،اکیس سالہ کیریئر میں دوپلاٹ ملے جنہیں شوکت خانم کوعطیہ کردیئے۔پیرکوقومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ مانچسٹرمیں فنڈ ریزنگ ایونٹ چھوڑ کرآیا ہوں اس لئے آج آیا کہ میری غیرموجودگی میں مجھ پرکئی الزامات لگائے گئے شوکت خانم ہسپتال اورنمل یونیورسٹی کاچیئرمین ہوں پارلیمنٹیرین ہوں میری ذمہ داری تھی کہ میں پاکستان آکراپنی صفائی پیش کروں کاغذات میرے پاس ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے لندن میں فلیٹ 1983ء میں خریدا جس رقم سے فلیٹ خریدااس پرٹیکس ادا کیا 1971ء سے 1976ء تک اور77ء سے 1988ء تک کاؤنٹی کرکٹ کھیلی برطانیہ میں کاؤنٹی کھیلنے پرجوتنخواہ ملتی تھی اس پر33 فیصد ٹیکس کاٹاجاتاتھا پاکستان میں بھی ٹیکس ادا کرتاتھا 1982ء سے پاکستان میں ٹیکس ادا کرتاآرہاہوں اسی ٹیکس کے پیسے سے لندن میں فلیٹ خریدا میں نے ہمیشہ کہاکہ میرا فلیٹ ہے لندن کا رہائشی نہ ہونے کی وجہ سے جب آپ وہا ں پرکوئی چیز خریدتے ہیں تو ہمیشہ آپ کو اکاؤنٹنٹ بتاتے ہیں کہ آف شورکمپنی کے ذریعے فلیٹ خریدا جائے اس لئے میں نے لندن میں کمپنی کے نام پرفلیٹ خریدا جسے 2003ء میں فروخت کردیا گیا اور اس سے بنی گالہ کاگھربنایا انہوں نے کہاکہ میں نے2002ء میں اپنے اثاثوں میں یہ فلیٹ ظاہرکیاتھا کبھی کوئی چیز نہیں چھپائی انہوں نے بتایا کہ مجھے اکیس سالہ کیریئر میں دوپلاٹ ملے ایک اس وقت ملا جب نوازشریف وزیراعلیٰ پنجا ب تھے اور دوسراپلاٹ 1992ء کاورلڈکپ جیتنے پرملامیں نے دونوں پلاٹ شوکت خانم کوعطیہ کردیئے پلاٹوں سے متعلق مجھ پرالزام لگایا کہ میں نے خط لکھا ہے جو غلط ہے انہوں نے کہاکہ میں پارلیمنٹیرین ہوں اورعوام کو جواب دہ ہوں امید کرتا ہوں کہ نوازشریف بھی جواب دینگے ابھی تک تو انہوں نے جواب دینے کی بجائے الزامات لگائے ہیں جمہوریت میں جواب دہ ہونا پڑتا ہے اگر آپ ملک کے وزیراعظم ہیں تو آپ کو جواب دینا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…