ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

ایسا جادوئی لباس جسے پہننے کے بعد کوئی بھی 85برس کا ہو جائے

datetime 14  مئی‬‮  2016 |

بس ایک بٹن دبانے کی دیر تھی، 34 سالہ ا±گو ڈومنٹ ایک لمحہ میں خود کو 85 برس کا محسوس کرنے لگا اور لمحوں میں خود میں ایسی تبدیلی پر ہکا بکا رہ گیا، مگر ایک بٹن دبانے سے ایسا ہوتا کیوں اور کیسے ہے؟34 سالہ اگو ڈومنٹ میوزمز کا متوالا تھا اور صحت کے اعتبار سے بھی بھلا چنگا تھا۔ مگر ایک خصوصی لباس پہننے اور بس ایک بٹن دبانے پر آنکھوں میں جیسے موتیا اتر آیا اور کانوں میں شوں شوں کی وہ آواز جس کی شکایت فقط عمر رسیدہ افراد ہی کرتے ہیں۔
ڈومنٹ نے منگل کو خود کو لبرٹی سائنس سینٹر کے لیے بطور رضاکار پیش کیا تھا، تاکہ اس پر کمپوٹر کی مدد سے چلنے والے ایکسو سیکلیٹن آزمایا جائے۔ یہ خصوصی آلہ ریموٹ کے ذریعے چلتا ہے اور جوڑوں، بصارت اور سماعت کو اسی سطح پر لے جا کر مشاہدہ کراتا ہے، جیسے برسوں بعد عمر رسیدہ ہونے پر لوگ کرتے ہیں۔ یعنی کئی دہائیوں قبل ہی، آپ یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں آپ کس صورت حال سے گزرنے والے ہیں۔
ہیڈفونز کانوں میں بزرگی میں سنائی دینے والی شوں شوں اور چشمہ آنکھوں کی پٹھوں کی کمزوری سے بصارت پر اثرات اور جوڑوں سے جڑے آلات اسی سختی کا احساس دیتے ہیں، جو بڑھاپے میں کوئی شخص محسوس کرتا ہے۔ چالیس پاو¿نڈ یا 18 کلوگرام کا یہ خصوصی لباس ڈومنٹ کو اس لیے بھی دیا گیا ہے کہ وہ عمر بڑھنے پر وزن میں اضافے کے احساس سے بھی شناسا ہو جائیں۔
ڈومنٹ کو یہ لباس پہن کر چلنے کا کہا گیا، تو ان کے منہ سے نکلا، ’واوو‘۔ چند ہی لمحوں میں اس کا دل 81 دھڑکن فی منٹ سے سو دھڑکن فی منٹ پر پہنچ گیا اور یہ سب اس کمپیوٹرائز لباس سے ریموٹ کے ذریعے جڑی مشین پر دکھائی دینے لگا۔
”آپ سے چلنے کو کہا جائے، تو آپ اپنی سوچ کو مرتکز نہیں کر سکتے۔ آپ کا جی چاہتا ہے کہ آپ بس بستر میں پڑے رہیں۔“یہ گینورتھ ایجنگ ایکسپیرینس یا بڑھاپا محسوس کرنا ایک ٹریول شو یا سفری پروگرام ہے، جو گینورتھ فائنانشل نامی انشورنس کمپنی نے تیار کیا ہے، جب کہ اس کے لیے تکنیکی مدد اپلائیڈ مائنڈز نے فراہم کی ہے۔ میوزیم کا دورہ کرنے والے افراد کو یہ لباس پہنچا کر انہیں بڑھاپے کے تجربے اور عمر کے اثرات کے احساس سے گزارتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…