ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کراچی ڈوبنے والا ہے،اہم ترین ادارے سپارکو نے خوفناک انتباہ کردیا

datetime 2  مئی‬‮  2016 |

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی ڈوبنے والا ہے،اہم ترین ادارے سپارکو نے خوفناک انتباہ کردیا، تفصیلات کے مطابق سپارکو نے موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ تباہ کن اثرات کی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کر دی۔ سپارکو حکام کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح بڑھ رہی ہے۔ کراچی سمیت کئی ساحلی شہر خطرے میں ہیں۔تفصیلات کے مطابق دنیا کے کئی ممالک خطرے میں ہیں۔ دریاوں اور سمندروں کے ڈیلٹے زمین میں دھنس رہے ہیں۔ 5 کروڑ انسانوں کو بچانے کے لیے بندوبست کر لیا جائے۔ وقت صرف 20 سے 25 سال کا ہے۔ سپارکو نے دنیا کے بدلتے ہوے موسموں اور ممکنہ تباہی کے خطرات کی گھنٹی بجا دی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلیوں کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران سپارکو حکام نے بتایا کہ مجموعی طور پر دنیا 7 برسوں سے خشک سالی کا شکار ہے۔ دریاوں میں پانی کا بہاو بہت کم ہے۔ سمندروں کی سطح ایک اعشاریہ3 ملی میٹرکی شرح سے بڑھ رہی ہے۔تازہ پانی مناسب مقدار میں نہ ملنے سے سمندر خشک زمین کو کھا رہے ہیں۔ سپارکو حکام کا کہنا ہے کہ دیگر سمندروں کی طرح بحیرہ عرب اور دریائے سندھ کے ڈیلٹے زمین میں دھنس رہے ہیں جس سے سب سے زیادہ خطرہ کراچی اور ساحلی پٹی کو ہے کیونکہ بنگال میں آنے والے سائیکلون کی شدت بحیرہ عرب کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ایسی صورتحال میں سمندر کی لہریں کراچی میں براہ راست داخل ہو سکتی ہیں۔ کراچی کو بچانے کے لیے یا تو ساحل کے قریب موجود انفراسٹرکچر کو پیچھے ہٹایا جائے یا بند باندھا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسی رفتار سے سمندر میں پانی سطح بلند ہوتی رہی تو آئندہ 35 سے 45 برسوں کے درمیان کراچی کے ساحلی علاقے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا گیا کہ سمندر کی سطح بلند ہونے سے دنیا میں پانچ کروڑ افراد کی زندگیوں متاثر ہوں گی جبکہ سمندر کے قریب رہنے والے چار کروڑ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑے گی۔کمیٹی کو بتایا کہ گیا کہ کراچی کے قریب سمندر کی سطح اور انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں پانی کی سطح کو ناپنے کے لیے سو سال پرانا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق سمندر کی سطح بڑھنے سے سب سے زیادہ نقصان دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں ہو رہا ہے جہاں دریا کا پانی سمندر میں گرتا ہے لیکن ڈیلٹا نشیب میں ہے اور ہموار ہے۔ اسی لیے سمندر کی سطح بڑھنے سے ان علاقوں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بحیرہ عرب میں بڑھتے ہوئے طوفانوں کے باعث صوبہ سندھ اور بلوچستان کے علاقوں کو خطرہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…