جنیوا/دمشق(نیوز ڈیسک)تقریباً دو ماہ سے جاری کمزور فائربندی کو شام کے متحارب فریقین ٹوٹنے کے قریب لے آئے ہیں۔ گزشتہ رات حلب کے نواحی علاقے کے ایک ہسپتال پر کیے گئے فضائی حملے میں تین بچوں سمیت30 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ حلب کے علاقے میں واقع ایک ہسپتال پر کیے گئے فضائی حملے میں کم از کم 30افراد مارے گئے ۔ حلب کے نواحی علاقے السکرائی میں واقع القدس ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔ اِس ہسپتال کو بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی امداد حاصل تھی۔ السکرائی باغیوں کے قبضے میں ہے۔ آبزرویٹری نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ فضائی حملے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیے گئے۔ القدس ہسپتال کو اب تک چودہ مرتبہ امکاناً حکومتی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا ہے اور اب یہ کسی قابل نہیں رہا ہے۔آبزرویٹری نے یہ بھی بتایا ہے کہ گزشتہ چھ ایام کے دوران حکومتی جنگی طیاروں کی بمباری میں چوراسی شہری مارے گئے ہیں اور باغیوں کی شیلنگ سے انچاس سویلین کی ہلاکت ہوئی ہے۔ بائیس اپریل سے مجموعی سویلین ہلاکتوں کی تعداد دو سو بنتی ہے اور اِن کا نصف حلب کے گردو نواح میں مارا گیا۔ حلب کا شہر اِس وقت منقسم ہو چکا ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں کے بڑے مرکز کے ایک حصے پرصدر بشار الاسد کی فوج قابض ہے تو دوسری حصے میں باغی مورچہ زن ہیں۔ اسد حکومت کی فوج شہر پر مکمل قبضہ کرنے کی کوشش شروع کیے ہوئے ہے۔دوسری جانب شام کے لیے مقرر اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر اسٹیفان ڈے مستورا نے امریکا اور روس سے اپیل کی ہے کہ ناکام ہوتے شامی امن مذاکرات کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں شروع ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے مذاکراتی عمل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ڈے مستورا نے یہ اپیل ویڈیو لنک کے ذریعے سکیورٹی کونسل سے کی ہے۔ اس گفتگو میں اقوام متحدہ کے سفیر نے یہ بھی کہا کہ 60 ایام سے جاری جنگ بندی اب ایک دھاگے سے بندھی رہ گئی ہے اور اِس صورت حال کو سنبھالنے کے لیے روس اور امریکا کی مداخلت ضروری ہے۔شام میں قیام امن کا جنیوا مرحلہ اِس وقت مکمل طور پر بند گلی میں داخل ہو کر معطل ہو چکا ہے۔ اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ شام ایک مرتبہ پھر پوری جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اسد حکومت کی فوج نئے جدید روسی اسلحے کے سہارے مزید علاقوں کی بازیابی کی کوشش میں ہے اور باغیوں کی بھرپور مزاحمت بھی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فریقین میں پیش قدمی کی زیادہ سکت بچی نہیں ہے۔ یہ صورت حال جنیوا مذاکرات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اسلامی ملک پر بڑا حملہ، بچوں سمیت درجنوں افراد جاں بحق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
نئے سال پر عوام کو بڑا ریلیف مل گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حیران کن کمی
-
فیض حمید لوگوں کو سرد خانے میں لاشوں کے ساتھ قید کرتے تھے، جاوید چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
بھارت کی خوبرو اداکارہ نے خودکشی کرلی؛ چونکا دینے والی وجہ سامنے آگئی
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
خاتون کیساتھ چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ڈالر کی نئی قیمت جاری
-
یکم جنوری سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان
-
سال کے آخری روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی، 2025 میں سونا کتنا مہنگا ہوا؟
-
تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اوربرف باری کی پیشگوئی
-
گنے کی فصل مارکیٹ میں آنے پر چینی کی قیمت میں بڑی کمی
-
زبانی لین دین پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال پر پابندی عائد















































