ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

جہانگیر ترین نے اعتراف کر لیا

datetime 27  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی اور رکن قومی اسمبلی جہانگیر ترین نے اعتراف کیا ہے کہ فاروقی پلپ کمپنی خریدنے سے قبل اس کے قرضے معاف ہو چکے تھے اور یہ کمپنی میرے داماد کی تھی ، کسی بھی کمپنی کو خریدنا میرا حق ہے ، اگر تحقیقات کے لئے کمیشن بنا تو اس کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں، اثرورسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کا تاثر غلط ہے ۔وہ منگل کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دینا چاہتے کیونکہ وہ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اس وقت ہم سے اہم ایشو پانامہ لیکس کا ہے کیونکہ اس میں وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں کی دو کمپنیوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور یہ کمپنیاں وزیر اعظم کے بیٹوں کے نام ہیں ۔ وفاقی وزراءان باتوں کا جواب دینے کے بجائے مجھ پر حملے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے قرضے معاف کروائے ان کی کئی بار انکوائری ہو چکی ہے ۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ میں 2002 ،2008 اور 2013 میں الیکشن لڑا اگر مجھ پر لگائے گئے الزامات درست ہوتے تو میرے کاغذات نامزدگی مسترد ہو جاتے ایک سوال کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے فاروقی پلپ کمپنی اپنے داماد کی فیملی سے خریدی اور اس کمپنی میں میرے داماد کا بھی حصہ تھا ۔ کمپنی خریدنے سے قبل تمام قرضے معاف ہو چکے تھے جب کہ کمپنی بعد میں خریدی گئی ۔ مجھ پر اثرو رسوخ استعمال کرکے قرضے معاف کروانے کے الزامات بے بنیاد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ( ن) والے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ مجھ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر کمپنیوں کے قرضے معاف کروانے سے متعلق الزامات بھی بے بنیاد ہیں میں ان کمپنیوں کو نہیں چلا رہا میرا ان کمپنیوں میں تھوڑا سا حصہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے کمیشن نے سب سے پہلے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر مجھے طلب کیا گیا تو میں کمیشن کے سامنے ضرور پیش ہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…