جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

جرمنی نے پاکستان کو بڑی آفر کر دی

datetime 19  اپریل‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل نے کہا ہے کہ پاک جرمن رینوایبل انرجی (قابل تجدید توانائی) فورم کا قیام جلد عمل میں لایا جائے گا۔ اس فورم کے قیام سے اس شعبے میں دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات فروغ ملے گا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اینا لیپل کا کہنا تھا کہ جرمنی مختلف شعبوں میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ اگر توانائی کے شعبے کی بات کی جائے تو جرمنی نے ماضی میں پن بجلی کے شعبے میں پاکستان کو مدد فراہم کی۔اب ہم قابل تجدید توانائی اور اس کے موثر استعمال (انرجی ایفیشنسی) کے شعبے میں پاکستان کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے جرمنی کی سولر ایسوسی ایشن کے ساتھ مفاہمت کی ایک یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد اب جرمنی کی سولر ٹیکنالوجی پاکستان میں دستیاب ہو سکے گی۔ایک سوال کے جواب میں اینا لیپل کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ رینیو ایبل انرجی کے شعبے میں کاروباری افراد کو چیلنجز کا بھی سامنا رہتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں ریگولیٹری ایشوز کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اینا لیپل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جرمنی میں تجارت کے فروغ کے امکانات کافی ہیں لیکن اس وقت پاکستان اور جرمنی کے مابین ہونے والی تجارت کا حجم جرمنی کی بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے ساتھ ہونے والی تجارت سے بھی کم ہے۔ ان کے بقول اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کہ یہ ممالک قدرے زیادہ مسابقتی صلاحیت رکھتے ہیں یا ان ممالک کی مصنوعات جرمنی کی مارکیٹس کی ضروریات پر زیادہ پورا اترتی ہیں۔ ”ہم پاکستان اور جرمنی کی تجارت میں حائل مشکلات کا پتہ چلانے اور ان مشکلات کو دور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں اینا لیپل کا کہنا تھا کہ ووکیشنل ایجوکیشن ٹریننگ ایک اور ایسا شعبہ ہے جہاں جرمنی پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ ”ہم یہ چاہتے ہیں کہ اچھی فنی تعلیم کے ذریعے پاکستان کے کاروباری سیکٹرز اسٹینڈرائزڈ ہوں اور طالب علموں کو جو سرٹیفیکیٹ ملیں ان سے ان کی اہلیت میں بھی اضافہ ہو اور وہ کوالٹی کے اچھے معیارات کو فالو کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان کی اسناد کو ملک بھر میں تسلیم کیا جائے۔اینا لیپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ان کے ثقافتی اور تعلیمی وفود کا بھی زیادہ سے زیادہ تبادلہ ہو۔لاہور میں ہونے والے پاک جرمن بزنس فورم کے اسپرنگ گالہ 2016 کی رنگا رنگ تقریب کےحوالے سے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کر تے ہوئے اینا لیپل کا کہنا تھا کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ اس اسپرنگ فیسٹیول کے ذریعے پاکستان اور جرمنی کی کاروباری شخصیات کو اکٹھا ہونے کا موقع ملا ہے۔ ان کے بقول یہ میلہ پاکستان اور جرمنی کی کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا بھی ایک اچھا موقع فراہم کر تا ہے۔ اسپرنگ گالہ 2016 کے موقعے پر پاکستان اور جرمنی کی کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس تقریب کے آخر میں ایک کلچرل شو کا بھی انعقاد کیا گیا۔54 سالہ اینا لیپل 21 اگست 2015 سے پاکستان میں جرمنی کی سفیر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ اقتصادیات میں اعلیٰ تعلیم کی حامل لیپل اس سے پہلے بھی 2006 سے 2009 تک پاکستان میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن کے طور پر خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ دہشت گردی کے شکار ملک میں سفارتی ذمہ داریاں ادا کر نے کا تجربہ کیسا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک پروفیشنل سفارت کار ہیں، انہیں چیلنجز کا سامنا کر نا، مشکل حالات سے نبرد آزما ہونا اور مسائل کا حل تلاش کرنا اچھا لگتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان جیسے خطوں میں کام کر نا ایک چیلنج بھی ہے اور انہیں یہاں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…