جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

زبان سیکھنے کی پابندی،یورپی ملک میںنئے قوانین پر اتفاق رائے ہوگیا،تارکین وطن پریشان

datetime 15  اپریل‬‮  2016 |

برلن(نیوزڈیسک)کئی ماہ سے جاری بحث و مباحثے کے بعد جرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے مابین انسداد دہشت گردی اور مہاجرین کے انضمام کے حوالے سے نئے قوانین پر اتفاق رائے قائم ہو گیا ۔میڈیارپورٹس میں بتایاگیا کہ نئے مجوزہ جرمن قوانین کے مطابق جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے تارکین وطن اگر زبان سیکھنے، ملازمت تلاش کرنے اور معاشرے میں ضم ہونے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتے، تو انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات میں کمی کی جا سکتی ہے۔ چانسلر میرکل کی سیاسی پارٹی کرسچن ڈیموکریٹک یونین اور مخلوط سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے مابین یہ اتفاق رائے سات گھنٹے طویل بحث و مباحثے کے بعد ہوا۔ برلن حکومت کئی ماہ سے ان قوانین کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں ہے۔ انضمام کے حوالے سے طے پانے والے مجوزہ قوانین کے تحت جرمنی پہنچنے والے پناہ گزینوں کے لیے متعدد تربیتی پروگراموں کا انتظام کیا جائے گا تاہم ان سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کی سیاسی پناہ منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔ چانسلر میرکل کے بقول جرمن زبان سکھانے کے علاوہ مہاجرین کو ایسے کورسز بھی کرائے جائیں گے جن کی مدد سے وہ جرمنی کی روزگار کی منڈی میں ملازمت کے اہل ہو سکیں۔ نئے مجوزہ قوانین کے تحت وفاقی فنڈز کی مدد سے پناہ گزینوں کے لیے ملازمت کے تقریبا ایک لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ ملک بدری کے لیے مستحق قرار دیے جانے والے تارکین وطن کی ملک بدری پر اس وقت تک عملدرآمد نہیں کیا جائے گا، جب تک ان کا تربیتی پروگرام ختم نہیں ہو جاتا۔ اس کے علاوہ، جو مہاجرین حکام کی جانب سے مہیا کردہ رہائش ترک کریں گے، انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ نتائج کیا ہوں گے۔ میرکل نے کہا کہ نئے قوانین میں ہر کسی کے لیے مواقع بھی ہیں اور ذمہ داریاں بھی۔ مجوزہ قوانین کی ملکی کابینہ سے منظوری چوبیس مئی کو ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…