بدھ‬‮ ، 25 فروری‬‮ 2026 

اقتدار میں آنے والی دونوں ہی جماعتوں نے غلطیاں کی ہیں ‘ چیف جسٹس

datetime 12  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں دو ہی جماعتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں اور دونوں ہی نے غلطیاں کی ہیں۔ منگل کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے سندھ میں میئر اور ڈپٹی میئر کے طریقہ انتخاب سے متعلق مقدمے کی سماعت کی، سماعت کے دوران بابر اعوان ایڈووکیٹ نے جب اپنے دلائل میں کہا کہ شفاف انتخابات کے لئے شو آف ہینڈ ضروری ہے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شو آف ہینڈ ضروری ہے تو 2013 کے عام انتخابات کو کیوں تسلیم کیا گیا، پیپلز پارٹی کو اگر جمہوری تقاضو ں کا اتنا خیال تھا تو 4 بار بلدیاتی نظام میں ترامیم کیوں کیں، اگر ہاتھ دکھا کر چیئرمین کا انتخاب اتنا ہی شفاف ہے تو وزیر اعظم کا انتخاب بھی ایسے ہونا چاہیے ‘ شفافیت کے لئے تو پھر مردم شماری بھی ضروری ہے، 1998 میں آخری مرتبہ مردم شماری ہوئی ، جس کے بعد اگلی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی تاہم نہیں ہوئی ‘ اگر عدالت نے مردم شماری کرانے کا حکم دے دیا تو ملک کہاں کھڑا ہو گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں 2 سیاسی لگاتار حکومت کرتی آ رہی ہیں اور دونوں سے ہی غلطیاں ہوئی ہیں۔ ملک میں اصلاحات کی ضرورت ہے،ہم سے کہا جاتا ہے کہ پاناما معاملے پر از خود نوٹس لیں یا سپریم کورٹ کمیشن کیوں نہیں بناتی، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں، کیا یہ عدلیہ کا ذمہ ہے کہ کمیشن بنائیں، بتایاجائے کہ کسی معاملے کی تفتیش کی ذمہ دار انتظامیہ ہوتی ہے ‘ ہماری اپنی ذمہ داریاں اور دائرہ کار ہے عدلیہ کے پاس اور بھی بہت کام ہیں تفتیش کیلئے حکومت کے اپنے ادارے ہیں۔کسی ایک ادارے کا قصور نہیں پورا سسٹم ہی ذمے دار ہے لولے لنگڑے سسٹم کو بیساکھیوں سے چلانا پڑرہا ہے ‘ کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ہمارے لیے مناسب ہے کہ لب کشائی کم کریں۔ ہم کسی ایک شخص کو نشانے پر نہیں لا رہے، وہ پورے سسٹم کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، پورے ملک کو اصلاحات کی ضرورت ہے ‘ آئین میں شفاف انتخابات کے الفاظ کاغذی نہیں ہیں بلکہ الیکشن کمیشن کو آئین کے الفاظ پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…