ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سوئس بینکوں سے پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالرز کی واپسی کیلئے کارروائی شروع

datetime 18  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیو زڈیسک) سلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز نے کہا ہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالرز ہیں۔ حکومت نے سوئس اکاﺅنٹس میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالرز کی واپسی کیلئے کارروائی شروع کردی ہے، جی ایچ کیو کی جانب سے این ایل سی کا ریکارڈ جلد نیب کے حوالے کیا جائے گا، پارلیمانی سیکرٹری صنعت و پیداوار نے کہا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر متعدد اشیاءپر سبسڈی ختم کر دی گئی ہے، قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دانیال عزیز نے کہا کہ خیبر پی کے کے احتساب کمشن میں زیر التواءمقدمات کو نیب پشاور میں منتقل کیا جائے۔ دانیال عزیز نے کہا کہ خیبر پی کے میں ترقیاتی کاموں کے 60 فیصد کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں‘ نیب کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے کیونکہ کے پی کے کی وزارتوں کے سیکرٹریز اس پر قابو نہیں پاسکے۔ نکتہ اعتراض پر دانیال عزیز نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے کرپشن اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے حوالے سے پیش رفت کا آغاز کیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان عدالت کے حکم امتناعی کے پیچھے نہ چھپیں بلکہ فارن فنڈنگ کے حوالے سے جواب دیں ۔ اربوں روپیہ پاکستان میں جلاﺅ گھیراﺅ اور ترقی کے عمل کو روکنے کیلئے استعمال کیا گیا ۔ کرپشن کے مقدمات میں ایک صوبائی وزیر کو بچانے کیلئے ٹرائل میں ایک سوبیس دن کا ہدف رکھا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت ایکٹ میں ترمیم کی گئی تاکہ کوئی معلومات نہ حاصل کر سکے ۔انہوں نے کہا کہ ایک صوبائی وزیر کو بچانے کیلئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے ۔ ایسا کیا گیا تو ہزاروں کرپشن کے مقدمات ختم ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اکبر ایس بابر مقدمہ میں کہا گیا کہ اربوں روپے باہر سے فنڈنگ ہوئی ہے یہ پیسہ پاکستان میں جلاﺅ گھیراﺅ اور ترقی کے عمل کو روکنے کیلئے استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ تاخیر کا شکار ہوا اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری تاخیر کا شکار ہوئی ۔ دانیال عزیز نے کہا کہ عدلیہ اور ایکشن کمشن فارن فنڈنگ کے حوالے سے ثبوت طلب کر ے اور اس حوالے سے مقدمات کا فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ا سمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے سوئس بینکوں میں 200ارب ڈالر کی واپسی کے حوالے سے کام کر رہی ہے ۔ اس کیلئے ایف بی آر کے دو افسران سوئٹزرلینڈ بھی گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…