بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی انجینیئر نے صرف 14 منٹ میں موبائل چارج کرنے والا بیٹری پیک تیارکرلیا

datetime 15  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستانی انجینیئر عبداللہ سومرو نے انوکھا بیٹری جارچر پیک تیار کیا ہے جوصرف 14 منٹ میں موبائل اور لیپ ٹاپ چارج کرسکتا ہے۔ اگرچہ اس کا عملی نمونہ (پروٹوٹائپ) بنالیا گیا ہے جس کے لیے عبداللہ سومرو نے ایک کمپنی مائیکروپاورلیبس قائم کی تھی۔ اس کےلیے چلی کی حکومت نے 35 ہزار ڈالر کی ابتدائی رقم فراہم کرکے عبداللہ کو اپنے ملک میں 6 ماہ کی تربیت بھی فراہم کی ہے۔ اس کے بعد عبداللہ سومرو اور ان کی ٹیم نے فلیش پیک ، پاور بینک کے نام سے دنیا کا مختصر ترین موبائل جارچر سیٹ تیار کیا ہے جو صرف 14 منٹ میں ایک موبائل کو مکمل طور پر جارچ کردیتا ہے۔ عبداللہ کے مطابق گاڑیوں کی بیٹری دیکھ کر انہیں یہ خیال سوجھا ہے کیونکہ وہ عام بیٹریوں سے دس گنا زائد تیزی سے جارچ ہوتی ہیں سومرو کے مطابق انہوں نے گاڑیوں کے بیٹری نظام کو عین اسی صولوں کے تحت چھوٹا کرکے ایک بیٹری پیک میں تبدیل کردیا ہے۔ فی الحال اس کی مہم ” کراؤڈ فنڈنگ ویب سائٹ انڈی گو گو” چل رہی ہے جس کے تحت 30 ہزار ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے لیکن اب تک صرف 1500 ڈالر ہی جمع ہوئے ہیں, جو حضرات پہلے سے ہی کچھ رقم کا وعدہ کرکے اس جارچر کو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ 50 ڈالر میں اسے حاصل کرسکتے ہیں لیکن ڈاک کے ذریعے بھجوانے کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔

یہ لیپ ٹاپ کےتمام چارجر کے ذریعے بجلی جمع کرتا ہے جن میں میک بک چارجر بھی شامل ہیں۔ اگرچہ اس میں یوایس بی پورٹ سے چارجنگ آپشن موجود ہے لیکن وہ سست رفتار ہے اور 14 منٹ کے لئے لیپ ٹاپ چارجر کی ضرورت ہوگی۔ ژیامی کے بیٹری پیک بہت مشہور ہیں لیکن سومرو کے مطابق ان کی بیٹری مکمل بھرنے میں کئی گھنٹے لگتے ہیں جبکہ فلیش پیک کو صرف 14 منٹ میں مکمل چارج کیا جاسکتا ہے۔عبداللہ سومرو کے مطابق یہ چارجر ان لوگوں کے لیے ہیں جو مسلسل سفر میں رہتے ہیں اور کہیں بجلی فراہم نہیں ہوتی۔ اس سال جون تک یہ ایجاد دستیاب ہوسکے گی اور چین کے شہر شینزن میں اس پر کام جاری ہے۔ عبداللہ سومرہ نے کہا کہ وہ مزید پاور بینکس پرکام کررہے ہیں اور 5 ہزار ایم اے ایچ بینک تیار کرنا چاہتے ہیں جس کی قیمت 70 ڈالر تک ہوگی لیکن اس کا انحصار انڈی گو گو کی مہم کی کامیابی پرہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…