بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

صوبہ پنجاب میں 40 ارب کی سرکاری زمین پر مافیا کا قبضہ‘ وزیراعلیٰ خاموش

datetime 8  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)صوبہ پنجاب میں 40 ارب روپے کیس سرکاری زمین پر سیاستدانوں نے قبضہ کر رکھا ہے اس میں 28 ارب روپے کی زمین ریونیو بورڈ پنجاب جبکہ دس ارب سے زائد کی زمین وزارت جنگلات پنجاب کی ملکیت میں ہے۔ وزارت جنگلات پنجاب کے افسران نے ایک ارب 15 کروڑ 87 لاکھ روپے کی قیمتی لکڑی من پسند کمپنیوں کو فروخت کرکے ریکوری کرنا بھی بھول گئے ہیں۔ آن لائن کو ملنے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 40 ارب روپے سے زائد سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر رکھاہے جس کو پنجاب حکومت واگزار کرانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ پنجاب کے ریونیو دیپارٹمنٹ کی ملکیت میں 28 ارب روپے کی زمین تھی جس پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا ہے۔ یہ زمین کمرشل اور زرعی بھی ہے۔ وزارت جنگلات پنجاب 14 ہزار ایکڑ زمین جس کی مالکجتی دس ارب سے زائد ہے پر بھی قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو ایک حساس ادارے نے اپنی رپورٹ پیش کرکے مطالبہ کیا تھاکہ وہ اربوں روپے کی سرکاری زمین بااثر لوگوں کے قبضہ سے واگزار کروائیں لیکن وزیراعلیٰ نے سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک انچ سرکاری زمین بااثر افراد سے واگزار نہیں کراسکے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات پنجاب کے کرپٹ افسران نے ایک ارب 15 کروڑ سے زائد کی لکڑی ٹمبر مافیا کو فراہم کردی جس سے قومی خزانہ کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے افسران نے 11 کروڑ کی قیمتی لکڑی مجمروں سے پکڑی تھی لیکن لکڑی کومارکیٹ میں فروخت کرنے کی بجائے ضائع کردی جس سے قومی خزانہ کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈویژنل فاریسٹ آفیسر بھکر ‘ خوشاب ‘ سرگودھا‘ میانوالی‘ بہاولپور ‘ ملتان ‘ لاہور‘ شیخوپورہ نے 7 کروڑ روپے کی قیمتی لکڑی فروخت کردی ان افسران کے خلاف سیکرٹری جنرلات انکوائری مکمل نہیں کر سکے اور قومی چور دوبارہ انہی پوسٹوں پر تعیانت کر دیئے گئے ہیں سرکاری دستاویزات کے مطابق فاریسٹ آفیسر جھنگ ‘ بہاولپور ‘ خوشاب‘ لیہ ‘ جہلم ‘ مظفر گڑھ کے خلاف کروڑوں روپے کی لکڑی چوری کرنے کے مقدمات درج ہوئے ہیں لیکن سزا کسی کو بھی نہ ہوسکی۔ افسران نے ساٹھ لاکھ مالیت کی گاڑیاں فروخت کرنے کی بجائے ضائع کردیں۔ تاہم کارروائی کسی کے خلاف عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ دستاویزات کے مطابق لاہور اور بہاولپور کے چڑیا گھر (ZOO) میں کیفے ٹیریا اور بچوں کے کھیلنے کے اوزار کا ٹھیکہ دینے میں مجموعی طور پر سات کروڑ کی کرپشن سامنے آئی ہے۔ افسران نے مختلف جنگلات کا ٹھیکہ دے کر ۲۲ کروڑ سے زائد کی مالی بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہین ۔ چھانگا مانگا جنگل میں نئی منی ٹرین کی خرید میں مبینہ طور پر 48 ملین کی کرپشن سامنے آئی ہے تاہم کسی افسر کو کرپشن کا ذمہ دار نہیں ٹھرایا جاسکا۔ محکمہ جنگلات پنجاب کے افسران نے اجازت کے بغیر 11 ملین کے پیٹرول کی خرید کے نام پر حضم ئے گئے ہیں۔ محکمہ جنگلات پنجاب میں موجود مافیا نے مختلف اقسام کی لکڑی کنٹریکٹر کو فراہم کی تھی لیکن ان نجی کنٹریکٹروں سے ایک ارب سے زائد کے واجبات وصول ہی نہیں کئے گئے۔ آن لائن کے پوچھنے پر محکمہ جنگلات پنجاب کے افسران نے بات کرنے سے انکار کردیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی انسپکشن ٹیم نے بھی اس اہم موضوع پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…