)حال میں قانونی شکل اختیار کرنے والے پنجاب تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کو غیر متوازن غیر اسلامی اور غیر آئینی ہونے کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گذار اسلامی قانون کے معروف استاد اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ ڈاکٹر اسلم خاکی نے درخواست میں کہا ہے کہ اسمیں کوئی بحث نہیں کہ مذہب ۔ قانون اور ہر مہذب معاشرہ تشدد اور خاص طور پر کمزور صنف پر تشدد کے سخت مخالف ہے اور اس کے لئے مذمت کے ساتھ ساتھ سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ مگر مذکورہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نے یکطرفہ طور پر ایسے غیر متوازن اور جارحانہ اقدامات تجویز کیئے ہیں جس سے خاندانی اکائی اور استحکام میں مزیددراڑیں آ سکتی ہیں۔ فریقین کو اسلام کے ثالثی نظام اور مشاورت اور راہنمائی کی جدید تکنیوں کے برعکس عجیب و غریب قسم کی سزائیںتجویز کی گئی ہیں ۔ جو معاشرہ میں اصلاح کی بجائے بگاڑ پیدا کریں گی۔ ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ملزم مرد کو ٹریکر پہنانے کا فعل انتہائی ذلت آمیز اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت ہے جو کہ اسلام اور آئین کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر خاکی نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایکٹ غیر متوازن ہے۔ اسمیں عورت کی طرف سے مرد پر ذہنی نفسیاتی اور زبانی تشدد کو روکنے اورازالہ کےلئے کوئی دفعہ نہیں رکھی گئی جو کہ مرد کو جسمانی تشدد پر مجبور کرتی ہیں۔ مرد کو گھر چھوڑ دینے کا حکم بھی غیر مناسب اور غیر عملی ہے جس سے مشترکہ خاندانی نظام میں اصلاح کی گنجائش ختم ہو جائیگی ۔ درخواست گزار نے ایکٹ کی مثبت دفعاے کو سراھنے کے ساتھ ساتھ عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایکٹ کی دفعات خاص طور پر دفعہ نمبر2(i) اور دفعہ نمبر7(d) & (e)کو خلاف اسلام قرار دیا جائے اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی جائے کہ و ہ مذکورہ بالا دفعات کو مذکورہ ایکٹ سے حذف کرے۔
تحفظ حقوق نسواں ایکٹ ،حتمی اقدام ہوگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک
)حال میں قانونی شکل اختیار کرنے والے پنجاب تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کو غیر متوازن غیر اسلامی اور غیر آئینی ہونے کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گذار اسلامی قانون کے معروف استاد اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ ڈاکٹر اسلم خاکی نے درخواست میں کہا ہے کہ اسمیں کوئی بحث نہیں کہ مذہب ۔ قانون اور ہر مہذب معاشرہ تشدد اور خاص طور پر کمزور صنف پر تشدد کے سخت مخالف ہے اور اس کے لئے مذمت کے ساتھ ساتھ سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ مگر مذکورہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نے یکطرفہ طور پر ایسے غیر متوازن اور جارحانہ اقدامات تجویز کیئے ہیں جس سے خاندانی اکائی اور استحکام میں مزیددراڑیں آ سکتی ہیں۔ فریقین کو اسلام کے ثالثی نظام اور مشاورت اور راہنمائی کی جدید تکنیوں کے برعکس عجیب و غریب قسم کی سزائیںتجویز کی گئی ہیں ۔ جو معاشرہ میں اصلاح کی بجائے بگاڑ پیدا کریں گی۔ ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ملزم مرد کو ٹریکر پہنانے کا فعل انتہائی ذلت آمیز اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت ہے جو کہ اسلام اور آئین کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر خاکی نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایکٹ غیر متوازن ہے۔ اسمیں عورت کی طرف سے مرد پر ذہنی نفسیاتی اور زبانی تشدد کو روکنے اورازالہ کےلئے کوئی دفعہ نہیں رکھی گئی جو کہ مرد کو جسمانی تشدد پر مجبور کرتی ہیں۔ مرد کو گھر چھوڑ دینے کا حکم بھی غیر مناسب اور غیر عملی ہے جس سے مشترکہ خاندانی نظام میں اصلاح کی گنجائش ختم ہو جائیگی ۔ درخواست گزار نے ایکٹ کی مثبت دفعاے کو سراھنے کے ساتھ ساتھ عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایکٹ کی دفعات خاص طور پر دفعہ نمبر2(i) اور دفعہ نمبر7(d) & (e)کو خلاف اسلام قرار دیا جائے اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی جائے کہ و ہ مذکورہ بالا دفعات کو مذکورہ ایکٹ سے حذف کرے۔
)حال میں قانونی شکل اختیار کرنے والے پنجاب تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کو غیر متوازن غیر اسلامی اور غیر آئینی ہونے کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گذار اسلامی قانون کے معروف استاد اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ ڈاکٹر اسلم خاکی نے درخواست میں کہا ہے کہ اسمیں کوئی بحث نہیں کہ مذہب ۔ قانون اور ہر مہذب معاشرہ تشدد اور خاص طور پر کمزور صنف پر تشدد کے سخت مخالف ہے اور اس کے لئے مذمت کے ساتھ ساتھ سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ مگر مذکورہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نے یکطرفہ طور پر ایسے غیر متوازن اور جارحانہ اقدامات تجویز کیئے ہیں جس سے خاندانی اکائی اور استحکام میں مزیددراڑیں آ سکتی ہیں۔ فریقین کو اسلام کے ثالثی نظام اور مشاورت اور راہنمائی کی جدید تکنیوں کے برعکس عجیب و غریب قسم کی سزائیںتجویز کی گئی ہیں ۔ جو معاشرہ میں اصلاح کی بجائے بگاڑ پیدا کریں گی۔ ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ملزم مرد کو ٹریکر پہنانے کا فعل انتہائی ذلت آمیز اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت ہے جو کہ اسلام اور آئین کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر خاکی نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایکٹ غیر متوازن ہے۔ اسمیں عورت کی طرف سے مرد پر ذہنی نفسیاتی اور زبانی تشدد کو روکنے اورازالہ کےلئے کوئی دفعہ نہیں رکھی گئی جو کہ مرد کو جسمانی تشدد پر مجبور کرتی ہیں۔ مرد کو گھر چھوڑ دینے کا حکم بھی غیر مناسب اور غیر عملی ہے جس سے مشترکہ خاندانی نظام میں اصلاح کی گنجائش ختم ہو جائیگی ۔ درخواست گزار نے ایکٹ کی مثبت دفعاے کو سراھنے کے ساتھ ساتھ عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایکٹ کی دفعات خاص طور پر دفعہ نمبر2(i) اور دفعہ نمبر7(d) & (e)کو خلاف اسلام قرار دیا جائے اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی جائے کہ و ہ مذکورہ بالا دفعات کو مذکورہ ایکٹ سے حذف کرے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)
-
حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
عید میلادالنبیﷺ کب منائی جائے گی؟ تعطیل کا اعلان ہوگیا
-
اٹک میں قبرستان سے ملنے والی بچے کی لاش کا معمہ حل، قاتل بچے کا باپ نکلا
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
سلمان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی
-
12 اگست کو نایاب مکمل سورج گرہن، کیا پاکستان میں نظر آئے گا؟
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان



















































