بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

تحفظ حقوق نسواں ایکٹ ،حتمی اقدام ہوگیا

datetime 3  مارچ‬‮  2016 |
اسلام آباد (نیوز ڈیسک
)حال میں قانونی شکل اختیار کرنے والے پنجاب تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کو غیر متوازن غیر اسلامی اور غیر آئینی ہونے کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت اسلام آباد میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گذار اسلامی قانون کے معروف استاد اور سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ ڈاکٹر اسلم خاکی نے درخواست میں کہا ہے کہ اسمیں کوئی بحث نہیں کہ مذہب ۔ قانون اور ہر مہذب معاشرہ تشدد اور خاص طور پر کمزور صنف پر تشدد کے سخت مخالف ہے اور اس کے لئے مذمت کے ساتھ ساتھ سزا بھی تجویز کرتا ہے۔ مگر مذکورہ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ نے یکطرفہ طور پر ایسے غیر متوازن اور جارحانہ اقدامات تجویز کیئے ہیں جس سے خاندانی اکائی اور استحکام میں مزیددراڑیں آ سکتی ہیں۔ فریقین کو اسلام کے ثالثی نظام اور مشاورت اور راہنمائی کی جدید تکنیوں کے برعکس عجیب و غریب قسم کی سزائیںتجویز کی گئی ہیں ۔ جو معاشرہ میں اصلاح کی بجائے بگاڑ پیدا کریں گی۔ ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت ملزم مرد کو ٹریکر پہنانے کا فعل انتہائی ذلت آمیز اور کسی کی نجی زندگی میں مداخلت ہے جو کہ اسلام اور آئین کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر خاکی نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایکٹ غیر متوازن ہے۔ اسمیں عورت کی طرف سے مرد پر ذہنی نفسیاتی اور زبانی تشدد کو روکنے اورازالہ کےلئے کوئی دفعہ نہیں رکھی گئی جو کہ مرد کو جسمانی تشدد پر مجبور کرتی ہیں۔ مرد کو گھر چھوڑ دینے کا حکم بھی غیر مناسب اور غیر عملی ہے جس سے مشترکہ خاندانی نظام میں اصلاح کی گنجائش ختم ہو جائیگی ۔ درخواست گزار نے ایکٹ کی مثبت دفعاے کو سراھنے کے ساتھ ساتھ عدالت سے استدعا کی ہے کہ ایکٹ کی دفعات خاص طور پر دفعہ نمبر2(i) اور دفعہ نمبر7(d) & (e)کو خلاف اسلام قرار دیا جائے اور پنجاب حکومت کو ہدایت کی جائے کہ و ہ مذکورہ بالا دفعات کو مذکورہ ایکٹ سے حذف کرے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…