ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

پیمرا چیئرمین کو ٹی وی نشریات بندش کا اختیار

datetime 3  مارچ‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم کو کسی بھی ٹی وی چینل کی نشریات محدود مدت کے لیے بند کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا۔پیمرا بورڈ نے ابصار عالم کو یہ اختیار، اتھارٹی کی جانب سے ’ری انیکٹمنٹ پروگرام‘ کے حوالے سے بیوروکریسی کی رکاوٹوں کے باعث قواعد و ضوابط پر عملدرآمد میں ناکامی پر دیا۔واضح رہے کہ ری انیکٹمنٹ پروگرامز میں حقیقی واقعات، خاص طور پر جرائم کے واقعات کو ڈرامائی انداز میں دکھایا جاتا ہے جبکہ اس میں جرم میں ملوث افراد کے انٹرویوزبھی شامل ہوتے ہیں۔تاہم معروف سماجی کارکنوں نے پیمرا کے اس اقدام کو میڈیا کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سابق سربراہ آئی اے رحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہے کیونکہ کسی ایک شخص کے ہاتھ میں فیصلہ دینے سے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔انہوں نے ری انیکٹمنٹ پروگرامز میں بہتری کی ضرورت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے معاملے پر میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوئی ایمرجنسی نہیں ہے۔پیمرا اتھارٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران بورڈ اراکین کو بتایا گیا کہ کئی نوٹسز اور جرمانے کیے جانے کے باوجود، تقریباً تمام ٹی وی چینلز پر جرائم پر مبنی پروگرامز نامناسب زبان اور انداز میں نشر کیے جارہے ہیں۔اس کے بعد بورڈ اراکین نے چیئرمین کو ایسے چینلز کی نشریات بند کرنے کا اختیار دے دیا۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو پورے الیکٹرونک میڈیا سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار دینے سے پیمرا کی شفافیت کو شدید نقصان پہنچے گا۔پیمرا بورڈ کے سابق مستعفی رکن ایڈووکیٹ اشرف گجر نے کہا کہ اگر ہر چیز کا فیصلہ چیئرمین کو کرنا ہے تو پھر بورڈ کی کوئی ضرورت نہیں، قانون کے مطابق کسی چینل کی نشریات بند کرنے کے فیصلے کا اختیار اتھارٹی کو ہے، صرف چیئرمین کو نہیں۔دوسری جانب پیمرا نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نامناسب مواد نشر کرنے والے ٹی وی چینلز پر جرمانے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کیا گیا۔پیمرا ترجمان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ری انیکٹمنٹ پروگرامز اور کرائم شوز کے نام پر پولیس اور ٹی وی کیمرے کے ہمراہ عوام کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یہ پیمرا قوانین، اعلیٰ عدالت کے احکامات اور معاشرے کی سماجی و ثقافتی اقدار کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…