اتوار‬‮ ، 17 مئی‬‮‬‮ 2026 

جرمنی نے دنیا بھر کے تارکین وطن کو بڑی پیشکش کردی

datetime 29  فروری‬‮  2016 |

برلن(نیوزڈیسک)جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی تارک وطن ثابت کردے کہ اسے اپنے ملک میں تحفظ نہیں ملتا تواسے ہم تحفظ دینے کو تیار ہیں،شمالی افریقی ممالک سے آئے تارکین وطن کی ملک بدری کے طریقہ کار کو مو¿ثر اور تیز کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ان ممالک پر تعاون بڑھانے کے لیے دباو¿ ڈالا جائے گا۔جرمن وزیر داخلہ نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ الجزائر، مراکش اور تیونس جیسے شمالی افریقی ممالک کے باشندوں کی جرمنی سے بلاتاخیر ملک بدری کو یقینی بنانے کے لیے ان ریاستوں کے ساتھ قریبی تعاون ضروری ہے۔ڈے میزیئر کا کہنا تھا کہ ان ممالک کے شہریوں کی ان کے وطنوں کو واپسی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ کام جلد از جلد انجام دیا جا سکے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کی شناخت کے لیے جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے اس عمل میں تیزی لائی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ ہم اس ضمن میں شمالی افریقی ممالک کو معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ڈے میزیئر نے کہاکہ اس دورے کا مقصد پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے تعاون میں بہتری لانا ہے۔ عام طور پر تارکین وطن کے پاس شناختی دستاویزات موجود نہیں ہوتیں یا وہ غلط معلومات فراہم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ان کے آبائی ملکوں کو واپسی میں دشواری پیدا ہو جاتی ہے۔انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے جرمنی کی جانب سے شمالی افریقی ممالک کو محفوظ قرار دینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان ممالک میں دیگر امور کے علاوہ آزادی اظہار کی کمی اور ہم جنس پرست افراد کے حقوق کی کمی جیسے سنگین مسائل پائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ محفوظ ممالک قرار دینے سے مراد یہ ہے کہ ہماری رائے میں ان ممالک میں عمومی سیاسی صورت حال اور قانون کی بالادستی سے متعلق حالات مناسب ہیں اور وہاں سیاسی انتقام نہیں لیا جاتا اور نہ ہی غیر انسانی سزائیں دی جاتی ہیں۔ مراکش، الجزائر اور تیونس ان معیارات پر پورا اترتے ہیں۔جرمن وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ محفوظ ملک کا درجہ ملنے کے بعد بھی ان ممالک سے آنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستیں رد ہونا ضروری نہیں اور درخواستوں کے فیصلے انفرادی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں، اس لیے اگر کوئی ثابت کر سکے کہ اسے ان ممالک میں تحفظ نہیں مل سکتا تو اسے پناہ دی جا سکتی ہے۔



کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…