اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگی کا انکشاف

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت تجارت کے ذیلی ادارے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگی کا انکشاف ہوا ہے۔ کراچی میں ڈے زل پارک کا منصوبہ کروڑوں روپے کے اخراجات کے باوجود شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی گئی ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق جم اینڈ جیولری شعبے کے فروغ کے لیے 2003-4 میں بغیر کسی مناسب فزیبلٹی اسٹڈی کے ڈے زل پارک کا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 2007میں ٹی ڈیپ نے کسی معاہدے کے بغیر سول ایوی ایشن اتھارٹی کو 20کروڑ 60لاکھ روپے کا لینڈ پریمیم ادا کر دیا، بعد ازاں 2013میں ٹی ٹیپ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے درمیان لیز معاہدے پر دستخط ہوگئے،مگر بھاری رجسٹریشن فیس کے باعث اسے رجسٹرڈ نہیں کیا جا سکا، تاہم ٹی ڈیپ نے سالانہ گراو¿نڈ کرائے کی مد میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو کروڑ روپے ادا کر دیے۔وزارت تجارت نے ستمبر 2013میں ٹی ٹیپ کو لیز معاہدے پر قانونی رائے حاصل کرنے کیلئے شہرت یافتہ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کیں۔ قانونی فرم نے ٹی ٹیپ کو رائے دی کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ادا کیے گئے 22کروڑ 70لاکھ روپے واپس لینے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کسی بھی وقت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے روک سکتا ہے،تاہم ٹی ٹیپ کی جانب سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو سالانہ گراو¿نڈ رینٹ کی مد میں ادا ئیگیوں کا بھی جواز نہیں بنتا ہے، جس کے بعد ٹی ٹیپ نے سالانہ گراو¿نڈ کرایہ روک لیا اور اس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی عدالت میں چلی گئی، صورت حال کا جائزہ لینے کیلیے ٹی ٹیپ نے تمام ڈائریکٹرز جنرلز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیدی۔کمیٹی اتفاق رائے سے اس نتیجے پر پہنچی کی یہ منصوبہ سفید ہاتھی بن چکا ہے اس کو بند کر دیا جائے،جس کے بعد ٹی ڈیپ بورڈ نے منصوبے کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ذمے داران کے تعین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…