منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

صحت کے شعبے میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی تشویشناک ہے،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی

datetime 20  فروری‬‮  2016 |

جامشورو(نیوزڈیسک) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ معاشرتی ترقی انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے‘ صحت کے شعبے میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی تشویشناک ہے‘ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لئے سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے مکمل انصاف فراہم کرے‘ طب اور قانون کے پیشے صرف کمائی کیلئے نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے جامشورو میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی میں کانوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان بے پناہ جانی و مالی قربانیوں کے بعد وجود میں آیا ہے۔ اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے عدلیہ کے شعبے سے منسلک لوگوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی کوشش مزید تیز کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ طب اور قانون کے پیشے مقدس ہیں ان کو صرف کمائی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ عوام کی توقعات اور ضروریات پر پورا اترے۔ اس کیلئے سپریم کورٹ عوام کی ذمہ داری ہے کہ مکمل انصاف کرے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پروفیشنل کیرئیر کا آغاز کرنے سے پہلے آئینی ذمے داریوں کا احساس ہونا چاہئے۔ گھوسٹ ملازمین بغیر کام کئے گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں لا تعداد کلینک اور ڈسپنسریاں جعلی ڈاکٹر چلا رہے ہیں۔ طب کے شعبے میں جعلسازی کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹرز اور نرسز کی شرح بہت کم ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جس میں عوامی صحت پر اٹھنے والے اخراجات سب سے کم سطح پر ہیں۔ حکومت کو ان معاملات پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ طب سے متعلق قانون سازی ڈاکٹرز کے مستقبل کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ ڈاکٹرز عملی زندگی میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور عملی زندگی میں معاشرے کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ دنیا میں معاشرتی ترقی انصاف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…