ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 11ماہ بعد 29فروری کو طلب

datetime 20  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 11ماہ بعد 29 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نیب اور ایف آئی اے کی صوبوں میں مداخلت کا معاملہ اہم ہوگاجبکہ این ایف سی ایوارڈ کا ایجنڈے میں شامل ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ کی پندرہ دن میں اجلاس بلانے کی رولنگ، صوبائی وزراء اعلیٰ کے مطالبات اور وفاقی وزارت بین الصوبائی امور کی بار بار یاد دہانیوں کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے اپنی صدارت میں مشترکہ مفادات کونسل کا اہم اجلاس 29 فروری کو وزیراعظم آفس اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے، جنگ رپورٹر آصف علی بھٹی کے مطابق گیارہ ماہ کے بعد ہونے والے اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان گزشتہ دنوں سے مختلف اہم امور پر جاری ٹینشن کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ ذرائع کا کہناہے کہ آخری مرتبہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس گزشتہ سال 18? مارچ کو ہوا تھا، اب 29? فروری کو ہونے والے اجلاس میں صوبوں کی جانب سے وفاق کے ذمہ این ایف سی ایوارڈ کی رقم اور دیگر محصولات میں حصہ کی ادائیگی کا معاملہ زیرغور آئے گا جبکہ صوبے ایل پی جی کے علاوہ ایل این جی معاہدے کے تحت گوادر بلوچستان اور سندھ میں لگائے جانے والے ری گیسی فائی ٹرمینلز بنانے کے معاملے کو وفاق کے ساتھ اٹھائیں گے۔ اجلاس میں چاروں وزراعلیٰ کے علاوہ کونسل کے ممبر وفاقی وزرا بھی شریک ہوں گے، اجلاس میں صوبوں کی جانب سے نیب اور ایف آئی اے کی صوبائی امور میں مداخلت اور کارروائیوں کا معاملہ اٹھائے جانے کا امکان ہے، اجلاس میں آئین کے تحت کونسل کے گزشتہ 2 برسوں میں کئے جانے والے فیصلوں اور اہم امور پر مبنی 2? سالانہ رپورٹس کی منظوری دی جائے گی۔ ذرائع کا کہناہے کہ اجلاس میں پانی وبجلی کے صوبوں کے ذمہ واجبات کی ادائیگی اور بجلی چوری کی روک تھام کے نئے قوانین پر عمل درآمد کا معاملہ بھی زیرغور آئے گا جبکہ ملک میں نئی مردم شماری کے انعقاد کےحوالے سے اہم معاملے کی حتمی منظوری کا امکان ہے۔ گزشتہ اجلاس میں بلوچستان اور سندھ کے بعض امور پر تحفظات اور مسائل کے باعث مردم شماری کرانے کی اصولی منظوری دی گئی تھی تاہم اس پرعمل درآمد کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…