جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

2018 تک نیشنل گرڈ میں 25 ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہوجائیگی ،وزارت پانی وبجلی

datetime 19  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزارت پانی وبجلی نے کہا ہے کہ 2018 تک نیشنل گرڈ میں 25 ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہوجائیگی۔قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں بتایاگیا کہ وفاقی و صوبائی محکمے واپڈا کے ایک سو باون ارب روپے سے زائد کے نادہندہ ہیں۔2008سے اب تک بجلی کے منصوبوں پر 180 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2008سے 2013تک اسی ارب 2013 سے اب تک واپڈا کے منصوبوں اور گدو پاور پلانٹ منصوبے میں سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیسکو نے چار ارب اناسی کروڑ، گیپکو نے چھ ارب چوراسی کروڑ، آئیسکو نے 43ارب، پیسکو نے 13 ارب ترانوے کروڑ،حیسکو نے چھتیس ارب اور سیپکو نے چالیس ارب روپے وصول کرنے ہیں۔وزارت پانی بجلی کے مطابق نیلم جہلم پن بجلی منصوبے سے اگلے سال مارچ تک بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی ،حکومت اس منصوبے کی بروقت تکمیل پر توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے اراضی کے حصول کا عمل جاری ہے۔ پٹن پن بجلی منصوبہ ا1939ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اکھوڑی ڈیم پر کام سندھ اورخیبرپختونخواء میں اتفاق رائے کے بعد شروع کیاجائیگا۔نیشنل ہیلتھ سروسزکے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹردرشن نے کہاکہ اسلام آباد کے نجی ہسپتالوں اورڈاکٹروں کی فیس باضابطہ بنانے کیلئے فیڈرل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے۔نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے پارلیمانی سیکرٹری رجب علی بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں زرعی اصلاحات متعارف کرانے کیلئے حکومت کسی تجویز پر غور نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس خوراک کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عابد شیر علی نے کہا کہ حکومت توانائی کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور دو ہزار اٹھارہ کے اختتام تک ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے چھتیس سو میگاواٹ کے منصوبے ایل این جی پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے بہتر انتظامات کے باعث لوڈشیڈنگ ماضی کے اٹھارہ گھنٹوں کے مقابلے میں کم ہو کر چھ گھنٹے ہو گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں کیلئے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا ہے اور ان منصوبوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق شروع کیاجائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…