بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

عراق میں تابکاری موادچوری،امریکی اورسوئس فرم کے الزامات،یورپی ممالک میں بھی کھلبلی

datetime 19  فروری‬‮  2016 |

زیورخ / بغداد(نیوزڈیسک)عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے نواح سے گذشتہ سال اچانک غائب ہوجانے والے خطرناک تابکاری مواد کی کوئی بھی متعلقہ ادارہ یا فرم ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور سوئس معائنہ کار گروپ ایس جی ایس اور امریکی فرم ویدر فورڈ انٹرنیشنل نے ایک دوسرے کو واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے جبکہ یورپی ممالک میں بھی کھلبلی سی مچ گئی ہے ،میڈیارپورٹس کے مطابق ایس جی ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تابکاری مواد ویدر فورڈ کے مہیا کردہ ایک محفوظ بنکر میں رکھا گیا تھا۔یہی امریکی کمپنی مرکزی کنٹریکٹر تھی اور اس نے اپنے ترک یونٹ کی گیس اور پائپ لائنوں کی جانچ کے لیے خدمات حاصل کی تھیں۔ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ ویدر فورڈ کے بنکر سے اس تابکاری مواد کے غائب ہونے کا 3 نومبر 2015ءکو پتا چلا تھا۔ویدر فورڈ نے کہاکہ تابکاری مواد کے لاپتا ہونے کی اس پر کوئی ذمے داری عاید نہیں ہوتی ہے اور اس ضمن میں اس نے عراقی اور امریکی حکام کے اطمینان کے لیے ان کے سوالوں کے جواب دے دیے تھے۔اس نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ایس جی ایس سپروائز گوزتمی کنٹرول کو اس تابکاری مواد اور بنکر تک رسائی حاصل تھی اور اسی کا اس پر کنٹرول تھا۔اس کا ایس جی ایس کے ترک یونٹ کی جانب اشارہ تھا۔تاہم ایس جی ایس کا کہنا تھا کہ اس کے عملے کو اس جگہ تک رسائی کے لیے ویدر فورڈ سے پیشگی تحریری اجازت کی ضرورت ہوتی تھی۔جہاں یہ تمام سرگرمیاں انجام پاتی تھیں ،وہ مکمل طور پر محفوظ اور اس جگہ کے مالک کے مامور کردہ سکیورٹی محافظوں کی حفاظت میں ہوتی ہیں۔ایس جی ایس اس جگہ کی سکیورٹی کی ذمے دار نہیں ہے اور اس کو بنکر تک بھی براہ راست رسائی نہیں ہے۔بیان کے مطابق ایس جی ایس کے ترک یونٹ نے تابکاری مواد کے لاپتا ہونے کی فوری اطلاع عراقی حکام کو دے دی تھی اور ن کے ساتھ تحقیقات میں بھی مکمل تعاون کیا ہے۔ایس جی ایس کا مزید کہنا تھا کہ اس کا عراق سے تعلق رکھنے والی کمپنی تعز کے ساتھ بھی کوئی کاروباری واسطہ نہیں ہے۔یہ کمپنی اس جگہ کے کنٹرول کی ذمے دار ہے اور اس نے غیرملکی عملہ بھرتی کررکھا ہے۔تعز کے ایک آپریشن مینجر نے عراق کے سکیورٹی حکام کا حوالہ دے کر اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…