لاہور(نیوز ڈیسک )آئی جی پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے کہا ہے کہ پنجاب میں کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں اور پنجا ب پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر سرگرم ہے۔ سینئر ایڈیٹر زاور صحافیوں کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورکس کو توڑا ہے اور اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے مکمل طور پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے طبقے میں شدت پسندی میں اضافہ جبکہ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ میں شدت پسندی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر داعش اور حزب التحریر جیسی دہشتگرد تنظیموں کی طرف سے ہونے والے پراپیگنڈا کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اور موت کی سزا کی بحالی کے بعد سے جرائم میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ پنجاب پولیس کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی بار اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے ،ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائزیشن کے عمل کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ایسا20سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال مئی تک 200ماڈل تھانے جبکہ اگلے مالی سال کے آخر تک پنجاب کے تمام تھانوں کو ماڈل تھانوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ان تھانوں کے قیام سے عوام کے ساتھ بدتمیزی کی شکایات کا بالکل ازالہ ہو جائے گا۔ انہوں نے اس حوالے سے پولیس میں نافذ کی گئیں بیشتراصلاحات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مروجہ نظام میں بدقسمی سے ایف آئی آر نے غیر ضروری اہمیت حاصل کر لی ہے اور اس وجہ سے جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج کی شکایات زوروں پر ہیں۔ اب نئے نظام میں ایف آئی آر کے مندرجات کی تصدیق اور اندراج کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مجرموں کی ڈیٹا بیس کو بھی کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی آٹھ لاکھ سے زیادہ فنگر پرنٹس کو کمپیوٹرمیں محفوظ کر لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تفتیش کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے بھی انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں خصوصاََ قتل کی واردات کی تفتیش کے لئے سپیشل ہومی سائیڈیونٹس کی تشکیل بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نامساعد حالات اورکم وسائل کے باوجود قتل کی وارداتوں کی شرح میں پچھلے ایک سال میں 26فیصد جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 60فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جو پولیس کی کارکردگی میں بہتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا پولیس موجودہ نظام عدل کا ایک جز ہے جبکہ دوسرے اجزاء4 مدعی ، گواہان ، وکلاء4 ، عدلیہ اور جیل خانہ جات پر مشتمل ہیں۔ جب تک یہ سارے اجزاء4 مل کر کام نہیں کریں گے معاشرے میں جرائم پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکتا۔ انہوں نے پولیس کو بے جا طور پر تنقید کا نشانہ بنانے کے رجحان کی مذمت کی اور کہا کہ ایسی بے بنیاد تنقید پولیس فورس کے مورال کو پست کرتی ہے۔ انہوں نے صوبہ بھر میں ٹریفک وارڈنزکے نظام میں لائی جانے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا اور امید کا اظہار کیا کہ جلد یہ نظام پانچ ضلعوں سے بڑھا کر پورے صوبہ میں رائج کر دیا جائے گا۔ ۔
پنجاب میں کوئی نوگو ایریاز نہیں، مشتاق سکھیرا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
نواز شریف کی سیاست میں انٹری
-
محکمہ موسمیات نے ماہ رمضان کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کردی
-
ہونڈا کا موٹرسائیکل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
پاکستانیوں کے پاس اسپین کا رہائشی کارڈ حاصل کرنے کا سنہری موقع
-
خواتین کے لیے خوشخبری، ماہانہ 30 ہزار روپے وظیفہ کس طرح حاصل کرسکتی ہیں؟
-
شوال کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
ڈاکٹر نبیحہ اور حارث کھوکھر کی ازدواجی زندگی کا معاملہ، نجی ٹی وی چینل کی بریک کے دوران ہونیوالی گفت...
-
کروڑوں روپے رشوت دے کر بنائی جانے والی غیر قانونی ہاسنگ کالونیوں کی فہرست جاری
-
’’افغانستان نے طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کے لیے پاکستان سے 10 ارب روپے مانگے‘‘
-
ڈاکٹر نبیہا کے الزامات پر شوہر حارث کھوکھر کا ردعمل سامنے آگیا
-
سرکاری ملازمین کے پنشن رولز میں اہم ترامیم ،نوٹیفکیشن جاری
-
پاک-نیوزی لینڈ میچ منسوخ، پاکستان کیلیے سیمی فائنل میں رسائی مشکل
-
ترقیاتی کاموں کے لیے ’’21 کلو سونے کی اینٹیں‘‘ عطیہ! دینے والا گمنام
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج پھر بڑا اضافہ



















































