ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

باچاخان یونیورسٹی پر حملے سے چند روز قبل چار دہشتگرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے ،پاکستانی حکام

datetime 18  فروری‬‮  2016 |

طورخم(نیوز ڈیسک) پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ چار سدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملے سے کچھ دن قبل دو دو افراد کے گروپ کے ذریعے چار دہشت گرد طورخم کی سرحد کو عبور کرکے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق سینئر سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق اگر وہاں مناسب نظام موجود ہوتا تو کم از کم2 افراد کو گرفتار کیا جاسکتا تھا اور تمام منصوبہ حملے سے قبل ہی ناکام ہوجاتا۔مذکورہ عہدیدار کے مطابق ہم ان کو روک سکتے تھے اور ان سے پوچھ سکتے تھے کہ ایک سواتی یا وزیرستانی لڑکا طورخم کو افغانستان سے کیوں عبور کررہا ہے اور ان کا مقصد کیا ہے؟انہوں نے کہاکہ المیہ یہ ہے کہ ہم افغانیوں کے داخلے کو روکنے کیلئے سخت سرحدی کنٹرول اور سخت سرحدی انتظام کا متاثر کن اعلان تو کرتے ہیں تاہم ہماری سرحدوں پر اس حوالے سے عملی انتظامات نہیں ہوتے۔ایک سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ہرروز تقریبا 10 ہزار سے 15 ہزار افراد سرحد کراس کرتے ہیں ایک اور سیکیورٹی ایجنسی کے عہدیدار کے مطابق یہ تعداد 25 ہزار سے 28 ہزار کے درمیان ہے جن میں سے صرف چند کے پاس ہی مناسب ویزا یا پاسپورٹ ہوتا ہے۔خاصہ دار حکام کے مطابق کالعدم گروپ کی کارروائیوں اور نام نہاد امن کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ جب وہ پاکستان میں داخل ہوں یا یہاں سے افغانستان جائیں تو انھیں اپنے ‘سابقہ ساتھیوں’ کے نام بتانا ہوں گے، تاہم وہ کالعدم تنظیم کے سابق کارکنوں کی شناخت اور ان کی تعداد بتانے سے قاصر رہے۔ایک اور سیکیورٹی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تجویز پیش کی کہ صرف فوج ہی سرحد کے انتظامات کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال کرسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…