ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

شاہد خاقان عباسی کے بینک اکاﺅنٹس کی چھان بین کا فیصلہ

datetime 18  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن) نیب حکام نے ایل این جی درآمد سکینڈل میں مبینہ 48 ارب کرپشن کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا کے بینک اکاﺅنٹس کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت پٹرولیم نے 48ارب روپے کی ایل این جی درآمد کی تھی جس میں مبینہ طور پر بھاری کرپشن کی گئی ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم اور وزیر پٹرولیم نے 19جہاز ایل این جی کے درآمد کئے ہیں اور ایک جہاز ایل این جی کی قیمت پچیس ملین امریکی ڈالر ہے۔نیب حکام نواز شریف حکومت کی طرف سے اربوں روپے کے ایل این جی سکینڈل کی تحقیقات کرا رہا ہے جس میں ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے میں مبینہ کرپشن بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ خبر رساں ادارے کو نیب ذرائع نے بتایا کہ ایل این جی سکینڈل میں مبینہ کرپشن کو آگے بڑھاتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا ، پی ایس او کے ایم ڈی عمران شیخ اور سوئی سدرن کمپنی کے افسران کے بینک اکاو¿نٹس میں رقوم کی ترسیل کی چھان بین کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم نے اڑتالیس ارب کی ایل این جی کو اوگرا قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف کے قریبی رفقاء کی پاور کمپنیوں کو کم ریٹس پر ایل این جی فروخت کی جس سے قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اوگرانے ایل این جی کی قیمت بارے حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں کیا۔ وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیب ایل این جی منصوبہ کو تباہ کرنے کیلئے تحقیقات کرارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…