مدراس (نیوز ڈیسک)بھارتی شہر مدراس کی ہائیکورٹ کے جج جسٹس کرنن نے بھارت میں پیدا ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ مجھے بھارت میں پیدا ہونے پر افسوس ہے۔ میں کسی ایسے ملک میں جانا چاہتا ہوں جہاں انتہا پسندی نہ ہو۔میرا تبادلہ اس لئے کیا گیا کہ میں دلت ہوں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق جسٹس کرنن کا سپریم کورٹ نے بلا جواز تبادلہ کر دیا تھا۔واضح رہے کہ بھارت میں اس سے پہلے بھی کئی اداکار اور دانشور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کیخلاف اپنے میڈلز واپس کر چکے ہیں۔
بھارت میں پیدا ہونے پر شرمندگی ہے،مدراس ہائیکورٹ کے جج پھٹ پڑے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا
-
محمد عباس کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ بابر اعظم نے وجہ بتادی



















































