مدراس (نیوز ڈیسک)بھارتی شہر مدراس کی ہائیکورٹ کے جج جسٹس کرنن نے بھارت میں پیدا ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہے کہ مجھے بھارت میں پیدا ہونے پر افسوس ہے۔ میں کسی ایسے ملک میں جانا چاہتا ہوں جہاں انتہا پسندی نہ ہو۔میرا تبادلہ اس لئے کیا گیا کہ میں دلت ہوں ۔بھارتی میڈیا کے مطابق جسٹس کرنن کا سپریم کورٹ نے بلا جواز تبادلہ کر دیا تھا۔واضح رہے کہ بھارت میں اس سے پہلے بھی کئی اداکار اور دانشور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کیخلاف اپنے میڈلز واپس کر چکے ہیں۔
بھارت میں پیدا ہونے پر شرمندگی ہے،مدراس ہائیکورٹ کے جج پھٹ پڑے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
آئی سٹل لو یو
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں



















































