اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے سود کے خاتمے کےلئے دائر نظرثانی درخواست پر معاونت کےلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے۔ پیر کو جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار راجہ ارشاد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 38 ایف کے تحت اسلام کے منافی قوانین کو کالعدم قرار دے سکتی ہے ¾پوری قوم کو ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کا مقروض بنا دیا گیا ہے،عدالت وفاق کو آرٹیکل 38 ایف کے نفاذ کا حکم جاری کرے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ربا سے متعلق معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے،ربا کن قوانین کے تحت رائج کیاجاتا ہے اسکا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو ہے۔ راجہ ارشاد نے دلائل میں کہا کہ شریعت کورٹ کو ایسا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے یہ کہہ کر کیس خارج کیا تھا کہ معاملہ شریعت کورٹ میں ہے، آئین کے مطابق سود کا جلد از جلد خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اہم معاملہ ہے، کیس کو تفصیل سے سننا چاہتے ہیں۔ عدالت نے معاونت کے لئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت مارچ تک ملتوی کردی۔
سود کا خاتمہ،تمام کوششیں ناکام،آخر بات اہم ترین فورم پر آہی گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟ ماہرین کی بڑی پیشگوئی
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)
-
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر بھارت کا رد عمل آگیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 31 اگست تک بڑھانے کی حقیقت سامنے آگئی
-
طالبعلم نے گھر میں دادا دادی کو ہلاک کیا پھر سکول جاکر 5ٹیچرز کو مارا، ہوشربا تفصیلات
-
سولر صارفین کےلئے خوشخبری، حکوت کا بڑا اعلان
-
زلزلے کے شدید جھٹکے،عوام خوفزدہ
-
بھارت کی اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کی درخواست، بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے وضاحت
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ہنی ٹریپ کرنیوالی ٹک ٹاکر گرفتار
-
پریمیم پرائز بانڈز کی فروخت پر اسٹیٹ بینک نے نئی شرط عائد کردی
-
پاکستان، ترکیہ کے ساتھ ‘کاغذی معاہدہ’ سعودیہ کو تحفظ فراہم نہیں کرے گا، ایران
-
مارکیٹ سےاکٹھےکیے گئے گھی کے تقریباً 48 فیصدنمونے کوالٹی ٹیسٹ میں ناکام
-
100 سے 40 ہزار روپے تک کے پرائز بانڈز، انعامی رقم پر ٹیکس کتنا ہوگا؟



















































