انقرہ(نیوز ڈیسک)ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی نے شام کے شمال میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کرد ملیشیا فضائی اڈے چھوڑ دے ورنہ مزید کارروائی کیلئے تیار ہوجائے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کی جانب سے جن علاقوں پر بمباری کی گئی ہے ان میں منغ فضائی اڈہ بھی شامل ہے جس پر کرد ملیشیا نے شامی باغیوں کو شکست دے کر قبضہ کر لیا تھا۔رکی کے ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے متنبہ کیا کہ اگر کرد ملیشیا فضائی اڈے سے نہیں نکلی تو ترکی مزید کارروائی کرے گا۔اس سے قبل ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو کے مطابق یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے فوجی شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم کے خلاف زمینی کارروائی میں حصہ لیں۔ وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے بتایا ہے کہ سعودی عرب دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کے لیے ترکی کے ایک اڈے پر اپنے جنگی جہاز تعینات کر رہا ہے۔ترکی وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد اخبار ینئی سفک اور ہیبر ترک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر دولتِ اسلامیہ کے خلاف حکمت عملی ہے تو پھر سعودی عرب اور ترکی زمینی آپریشن کر سکتے ہیں۔کچھ کا کہنا ہے کہ ترکی دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے میں ہچکچا رہا ہے لیکن یہ ترکی ہی ہے کہ جو ٹھوس تجاویز دے رہا ہے۔ترکی کے وزیرِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب حالیہ مہینوں میں ترکی کا زیادہ قریبی ساتھی بن رہا ہے اور وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے ترکی کے انجیلک اڈے جنگی جہاز بھی بھیج رہا ہے۔وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو کے مطابق سعودی حکام فوجی اڈے کا معائنہ بھی آئے تھے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ کتنے جنگی جہاز یہاں تعینات کیے جائیں گے۔انھوں ( سعودی عرب)نے کہا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو ہم فوجی بھی بھیج سکتے ہیں، سعودی عرب شام میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں بھرپور عظم کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ایک سوال کہ کیا سعودی عرب اپنے فوجی شام میں داخل کرنے کے لیے ترکی کر سرحد پر بھیج سکتا ہے؟اس پر ترکی وزیر خارجہ مولود چاووش اوعلو نے کہا ’یہ ایک خواہش ہو سکتی ہے لیکن اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، سعودی عرب جہاز بھیج رہا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر زمینی آپریشن کا وقت آتا ہے تو وہ فوجی بھی بھیج سکتے ہیں۔ترکی کے وزیر خارجہ کا بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی شامی صدر بشارالاسد نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہہ سرکاری افواج بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تمام شام کو واپس لینے کی کوشش کریں گی لیکن علاقائی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے اس مسئلے کا حل زیادہ وقت لے گا اور اس میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔شامی صدر کے مطابق انھیں یقین ہے کہ باغی فورسز کی حمایت کرنے والے سعودی عرب اور ترکی شام میں فوجی مداخلت کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر سعودی عرب کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نیکہا تھا کہ شام میں شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے فضائی کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ضروری ہیں۔ان کا ملک ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی افواج فراہم کرے گا۔اس پر ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف محمد علی جعفری نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے پاس نہ تو ہمت ہے اور نہ صلاحیت کہ وہ شام میں اپنی فوج بھیج سکے کیونکہ اس کی فوج ’روایتی قسم‘ کی ہے۔#/s#
کرد ملیشیاء فضائی اڈے چھوڑ دے ،ورنہ مزید بمباری کا سامنا کر نے کیلئے تیار ہوجائے، ترکی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
آئی سٹل لو یو
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں



















































