ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستانی طالب علم نے اپنی نئی ایجاد سے کردیا دنیا کو حیران!!۔

datetime 28  جنوری‬‮  2015 |

کراچی: پاکستان کے باصلاحیت نوجوان سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے میدان میںاپنی صلاحیتوں کالوہا عالمی سطح پرمنوا چکے ہیں اور ب ہارڈویئرکے میدان میںبھی کامیابی کے جھنڈے گاڑرہے ہیں۔ 

اکراچی کے 23سالہ نوجوان طالب علم فرخ بھابھا نے مقامی سطح پرتھری ڈی پرنٹر تیارکیاہے جس کی لاگت انٹرنیشنل مارکیٹ کے مقابلے میں 4 گنا کم ہے۔ فرخ بھابھانے بتایاکہ تھری ڈی پرنٹرپلاسٹک کے میٹریل سے کوئی بھی آبجیکٹ منٹوںمیں تیار کرسکتا ہے۔ پرنٹرکو کنٹرول کرنے کے لیے سافٹ ویئربھی مقامی سطح پرتیار کیاجا رہاہے جسے موبائل فون کے ذریعے بھی مانیٹراور آپریٹ کیا جاسکے گا۔ تھری ڈی اسکینرکی تیاری کے پروجیکٹ پربھی کام شروع کردیا ہے جو KINECTسینسرز پرمشتمل ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکی مقامی سطح پر تیاری پاکستان میںتھری ڈی ٹیکنالوجی کودوام حاصل ہوگا۔

یہ انجینئرنگ کے شعبے میںانقلابی پیش رفت ہے جس سے پاکستان میں آٹوسیکٹر، میڈیکل اینڈسرجری، دندان سازی کے شعبے کے ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ سیکٹرکو بھرپور فائدہ ہوگا۔ تھری ڈی پرنٹرکے ذریعے پلاسٹک کے ساتھ لچک دارپلاسٹک، ربراور لکڑی جیسے میٹیریل کی اشیابھی تیارکی جاسکیں گی۔ فرخ بھابھا میں بیچلرآف سائنس(کمپیوٹنگ) کے فائنل ٰایئرکے طالب علم ہیں۔ انھوںنے دنیامیں تھری ڈی پرنٹنگ کے شعبے میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کی ترقی کے امکانات کودیکھتے ہوئے پاکستان میںتھری ڈی پرنٹنگ پرکام کافیصلہ کیااور اپنے فائنل پروجیکٹ کے طورپر تھری ڈی پرنٹنگ کاانتخاب کیا۔ وہ اب تک 3تھری ڈی پرنٹرزتیار کرچکے ہیں، چوتھاپرنٹر زیرتکمیل ہے۔ فرخ بھابھاکا تیارکردہ پرنٹرایک فٹ اونچااور ایک فٹ چوڑاکوئی بھی آبجیکٹ تیارکر سکتاہے۔

اب تک پاکستان میں تیارکردہ یہ سب سے زیادہ گنجائش کا پرنٹرہے ۔ فرخ بھابھاکو دسمبر2014 میںغلام اسحٰق خان یونیورسٹی میںمنعقدہ ایک مقابلے میں 8پروجیکٹس میں سب سے اہم اورمنفرد قراردیا گیا۔ ان کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے بین الاقوامی آئی ٹی کمپنی مائکروسافٹ نے انھیں مائکروسافٹ انوویشن سینٹرکراچی میںشامل کیاجہاں وہ مائکروسافٹ کی سپورٹ سے سافٹ ویئرکی تیاری میںمصروف ہیں۔ یہ سافٹ ویئر پاکستان میںتھری ڈی پرنٹنگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میںاہم سنگ میل ہوگا۔ سافٹ ویئرکا بیٹاورژن رواںسال کے وسط تک متعارف کرادیا جائے گا۔ فرخ بھابھا کاکہنا ہے کہ پاکستان میںتھری ڈی پرنٹرزکی تجارتی پیمانے پرتیاری کی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرایک لاکھ روپے میںایک سال کی وارنٹی، سافٹ ویئراور ٹریننگ کے ساتھ مہیاکیا جاسکتا ہے جبکہ درآمدی پرنٹرکی لاگت 3سے 4لاکھ روپے ہوگی۔ پاکستان میں تیارکردہ تھری ڈی پرنٹرمیں مختلف ملکوںسے درآمدکردہ کمپونینٹس استعمال کیے گئے ہیںتاہم لاگت کم کرنے اورپاکستانی ماحول اورتقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مقامی سطح پربھی سلوشنز اورکمپونینٹ تیارکیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…