منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

اپنے وزن سے ہزار گنا زیادہ وزن اٹھانے والا پلاسٹک تیار

datetime 13  فروری‬‮  2016 |

نیویارک(نیوز ڈیسک) جدید ٹیکنالوجی نے پلاسٹک کو ایسی حیرت انگیز لچک دی ہے کہ جس کی بدولت برتنوں اور فرنیچر سے لے کر روزہ مرہ کی کئی اشیا بنائی جارہی ہیں لیکن اب سائنس دانوں نے اسے جدید شکل دے کر اتنا لچک دار بنادیا ہے جو نہ صرف اپنےوزن سے ہزار گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے بلکہ میڈیکل فیلڈ اور انڈسٹریزی میں مزید کارآمد ہوگا۔یونیورسٹی آف رونچسٹر کے سائنس دانوں نے ایسا پولیمر( پلاسٹک) تیار کرلیا ہے جو ہیلتھ کیئر اور کپڑوں کی صنعت میں انتہائی مفید ہوگا اور اس میں اپنے وزن سے ایک ہزار گنا زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ اس حیرت انگیز اور ذہین پولیمر کو بنانے والی ٹیم کے سربراہ اور کیمیکل انجینئر کے ماہر پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس پلاسٹک کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ یہ اس وقت تک اپنی عارضی شکل برقرار رکھتا ہے جب تک اسے ایک خاص درجہ حرارت پر گرم نہ کرلیا جائے تاہم یہ اس ایجاد کا ایک حصہ ہے جب کہ اس کا ایک اور اہم فیچر یہ ہے کہ اس میں لچک دار توانائی کی بڑی مقدار پیدا کی گئی ہے جس کی مدد اسے اس قابل بنایا گیا ہے کہ اپنی شکل میں دوبارہ آنے کے دوران زیادہ میکینکل کام انجام دیا جاسکے گا۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس پولیمر ایک بڑی خوبی ہڈیاں جوڑنے والے آلات، مصنوعی جلد کی تیاری اور دیگر طبی آلات میں اس کا استعمال ہے جس کی بدولت ان آپریشنز کے دوران بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں گے جب کہ اس پولیمر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ربر بینڈ کی طرح ہوتا ہے جو نئی شکل میں بدل کو خود کو لاک کرلیتا ہے اور صرف ایک ٹچ سے یہ دوبارہ اپنی شکل میں آسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھنڈے ہونے اور کھنچاو¿ کے دوران پولیمر کی قلم پذیری کو کنٹرول کرنے پر بھی کام کیا گیا ہے کہ جب قلم پذیری کی تعداد بڑھتی ہے تو پولیمر کی شکل میں مزید استحکام آجاتا ہے جو اسے مستقل ایک ہی شکل میں رہنے نہیں دیتا۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس قابل ہوگئے ہیں کہ وہ نہ صرف پولیمر کے ریشوں کو جوڑنے والے مالیکولز لنکرز کی تعداد اور اقسام کوبلکہ اس نیٹ ورک کے دوران ان کی تقسیم کو بھی کنٹرول کر سکیں جس کا مطلب ہے کہ وہ اب پولیمر سے بنی اشیا کے استحکام کو ایڈجسٹ اوران کے پگھلنے کےاس درجہ حرارت کو بھی عارضی طور پر کنٹرول کرسکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے درجہ حرارت سے بھی کم درجہ حرارت یعنی 95 ڈگری سینٹی گریڈ پر پولیمر ہو جب گرم کیا جاتا ہے تو یہ قلم پذیری کو توڑنے کا باعث بنتا ہے اور اسے مستقل شکل میں بدل دیتا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…