جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں ڈیڑھ گھنٹے میں 3دستی بم حملے‘شہر میں خوف و ہراس

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

کراچی( نیوز ڈیسک)کراچی میں2 گھنٹے کے دوران3 دستی بم حملے کئے گئے۔ پہلا حملہ مبینہ ٹاون تھانے پر،دوسرا کریم آباد پل سے اپوا کالج کے قریب اور تیسرانارتھ ناظم آباد میں نجی سکول پر حملہ کیا گیا تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تفصیلا ت کے مطابق کراچی میں2 گھنٹے کے دوران تھانے، ایک کالج اور سکول پر دستی بموں سے حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ کی جانب سے محض میڈیا پر نماز جمعہ، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات کی حفاظت یقینی بنانے کا بیان جاری کردیا گیا۔پولیس کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے قریب ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع مبینہ ٹَاون تھانہ پر 2موٹرسائیکل پر سوار 3نامعلوم ملزمان بم بھینک کر فرار ہوگئے۔ ایس پی گلشن اقبال ڈاکٹر فہد کے مطابق دستی بم حملہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے اور حملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ابھی اس دھماکے کی تحقیقات جاری تھیں کہ کراچی سینٹرل کے علاقے کریم آباد میں بھی اپوا کالج کے قریب نامعلوم ملزمان دستی بم پھیبک کر فرار ہوگئے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کی بعد دستی بم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے شارع پاکستان کے کریم آباد فلائی اوور سے دستی بم پھینکا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایس ایس پی سینٹرل مقدس حیدر کے مطابق بم ڈسپوزل اسکوڈ فو ری طور پر موقع پر پہنچ گیا اپواء کالج کے پرنسپل نسیم زیدی کے مطابق دھماکے کے بعد کالج میں طالبات میں خوف پھیل گیا اور ممکنہ خدشے کے پیش نظر اپوا کالج کی طالبات کو باہر جانے سے منع کردیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اجازت کے بعد ہی طالبات کو کالج سے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔ایک اور رپورٹ کے مطابق شہر میں دستی بم حملوں کے بعد جامعہ کراچی اور این ای ڈی کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا اور جامعات کے داخلی دروازوں کو بند کردیا گیا۔ان واقعات کے بعد حسب معمول صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کے افراد کے موبائل فونز پر ٹکرز جاری کرکے مبینہ ٹاون اور اپوا کالج کے قریب دستی بم پھینکے جانے کا نوٹس لینے کی اطلاع دی اور کہا گیا کہ وزیر داخلہ نے دونو ں واقعات کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ترجمان کے مطابق وزیر داخلہ کی جانب سے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر میں گشت بڑھائے اور ملزمان کی گرفتاری کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے۔انہوں نے تعلیمی اداروں اور مساجد میں نماز جمعہ کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کرنے کے مزید احکامات جاری کرکے شاید ذمے داری ادا کردی۔ کیونکہ دونوں واقعات کے بعد شہر کی سڑکوں پر ان احکامات کے مطابق صورتحال نظر نہیں آئی۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…