منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

کراچی میں ڈیڑھ گھنٹے میں 3دستی بم حملے‘شہر میں خوف و ہراس

datetime 12  فروری‬‮  2016 |

کراچی( نیوز ڈیسک)کراچی میں2 گھنٹے کے دوران3 دستی بم حملے کئے گئے۔ پہلا حملہ مبینہ ٹاون تھانے پر،دوسرا کریم آباد پل سے اپوا کالج کے قریب اور تیسرانارتھ ناظم آباد میں نجی سکول پر حملہ کیا گیا تاہم ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تفصیلا ت کے مطابق کراچی میں2 گھنٹے کے دوران تھانے، ایک کالج اور سکول پر دستی بموں سے حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ وزیر داخلہ کی جانب سے محض میڈیا پر نماز جمعہ، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات کی حفاظت یقینی بنانے کا بیان جاری کردیا گیا۔پولیس کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے قریب ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع مبینہ ٹَاون تھانہ پر 2موٹرسائیکل پر سوار 3نامعلوم ملزمان بم بھینک کر فرار ہوگئے۔ ایس پی گلشن اقبال ڈاکٹر فہد کے مطابق دستی بم حملہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے اور حملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔ابھی اس دھماکے کی تحقیقات جاری تھیں کہ کراچی سینٹرل کے علاقے کریم آباد میں بھی اپوا کالج کے قریب نامعلوم ملزمان دستی بم پھیبک کر فرار ہوگئے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کی بعد دستی بم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے شارع پاکستان کے کریم آباد فلائی اوور سے دستی بم پھینکا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایس ایس پی سینٹرل مقدس حیدر کے مطابق بم ڈسپوزل اسکوڈ فو ری طور پر موقع پر پہنچ گیا اپواء کالج کے پرنسپل نسیم زیدی کے مطابق دھماکے کے بعد کالج میں طالبات میں خوف پھیل گیا اور ممکنہ خدشے کے پیش نظر اپوا کالج کی طالبات کو باہر جانے سے منع کردیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی اجازت کے بعد ہی طالبات کو کالج سے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔ایک اور رپورٹ کے مطابق شہر میں دستی بم حملوں کے بعد جامعہ کراچی اور این ای ڈی کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا اور جامعات کے داخلی دروازوں کو بند کردیا گیا۔ان واقعات کے بعد حسب معمول صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور خان سیال کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کے افراد کے موبائل فونز پر ٹکرز جاری کرکے مبینہ ٹاون اور اپوا کالج کے قریب دستی بم پھینکے جانے کا نوٹس لینے کی اطلاع دی اور کہا گیا کہ وزیر داخلہ نے دونو ں واقعات کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ترجمان کے مطابق وزیر داخلہ کی جانب سے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شہر میں گشت بڑھائے اور ملزمان کی گرفتاری کو ہر ممکن یقینی بنایا جائے۔انہوں نے تعلیمی اداروں اور مساجد میں نماز جمعہ کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کرنے کے مزید احکامات جاری کرکے شاید ذمے داری ادا کردی۔ کیونکہ دونوں واقعات کے بعد شہر کی سڑکوں پر ان احکامات کے مطابق صورتحال نظر نہیں آئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…